قومی خبریں

بیروزگاروں کو ٹھگنے اور ان کا اپنا نشانہ بنانے والی چینی کمپنیوں پر چھاپے

بنگلورو، 4اکتوبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے چینی ایپ سے منسلک ایک کمپنی کے خلاف مبینہ طور پر نوجوانوں کو پارٹ ٹائم ملازمت فراہم کرنے کے بہانے دھوکہ دینے کے الزام میں تحقیقات شروع کی ہے۔ پارٹ ٹائم جاب میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر مشہور شخصیات کی اپ لوڈنگ اور لائکس ویڈیوز شامل تھیں۔وفاقی ایجنسی نے پیر کے روز کہا کہ اس نے بنگلورو میں کم از کم 12 کمپنیوں پر چھاپہ مارا جو ایپ کیپ شیئر سے وابستہ ہیں اور کاروائی میں 5.85 کروڑ روپے کی رقم ضبط کی۔ ای ڈی نے ایک بیان میں کہا کہ تحقیقات کے دوران یہ پتہ چلا کہ چند چینی شہریوں نے کیپ شیئرر نامی موبائل ایپ کے ذریعے بے روزگار لوگوں، خاص کر نوجوانوں کو دھوکہ دیا، درحقیقت انہوں نے لوگوں کو پارٹ ٹائم نوکریاں دینے کا وعدہ کیا تھا اور ان سے پیسے لئے تھے۔

انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے کہا کہ چینیوں کی قائم کردہ کمپنیوں نے یہاں کئی ہندوستانیوں کو بطور ڈائریکٹر، مترجم، ہیومن ریسورس مینیجر اور ٹیلی کال کرنے والوں کو بھرتی کیا۔ اس میں کہا گیا ہے کہ انہوں نے ہندوستانیوں کے دستاویزات حاصل کیے اور بینک اکاؤنٹس کھولے۔ملزم چینی شہریوں نے ایپ تیار کی اور واٹس ایپ اور ٹیلی گرام کے ذریعے اس کی تشہیر کی۔ ملزم اس ایپ کے ذریعے سرمایہ کاری کے نام پر لوگوں سے پیسے بھی بٹورتے تھے، جب کہ نوجوانوں کو مشہور شخصیات کی ویڈیوز ’لائک‘ کرکے سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کرنے کا ٹاسک دیا جاتا تھا۔

ایجنسی نے دعویٰ کیاکہ کام مکمل ہونے پروہ اپنے کیپ شیئر والیٹ میں 20 روپے فی ویڈیو جمع کرتے تھے۔ کچھ عرصے کے لیے رقم جمع کرائی گئی لیکن بعد میں ایپ کو پلے اسٹور سے ہٹا دیا گیا۔ اس طرح لوگوں کو ان کی سرمایہ کاری کے بارے میں دھوکہ دیا گیا۔ایجنسی نے کہا کہ اس گھوٹالے کے ذریعے جمع کی گئی رقم کو بنگلور کی کچھ کمپنیوں کے اکاؤنٹس کے ذریعے ہیرا پھیری کی گئی اور پھر اسے کرپٹو کرنسیوں میں تبدیل کرکے چین میں قائم کرپٹو ایکسچینج میں منتقل کیا گیا۔ ایک چارج شیٹ میں پولیس نے کہا تھا کہ 92 ملزمان میں سے چھ چینی شہری اور ایک تائیوان کا ہے، جو پورے اسکام کو کنٹرول کر رہے تھے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button