بین ریاستی خبریں

تمل ناڈو میں بارش سے خراب صوتحال: حکومت کوہائی کورٹ کی پھٹکار

کبھی پانی کے لیے روتے ہیں، کبھی پانی میں ہی مرجاتے ہیں

چنئی، 9 نومبر :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)تامل ناڈو میں مسلسل موسلادھار بارش کی وجہ سے سیلابی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔ اب تک پانچ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ دریں اثنا مدراس ہائی کورٹ نے منگل کو گریٹر چنئی کارپوریشن کو سخت سرزنش کی۔ شہر میں سیلاب سے بچاؤ کے لیے خاطر خواہ اقدامات نہ کرنے پر عدالت نے کہا کہ آدھے سال پانی کے لیے رونا پڑتا ہے اور آدھا سال پانی میں ڈوب مرنے پر مجبور ہیں۔

چیف جسٹس سنجیب بنرجی اور جسٹس پی ڈی آڈیکیسوالو کی بنچ نے ریاست میں سیلاب کی صورتحال پر حیرت کا اظہار کیا اور پوچھا کہ 2015 کے بعد کے سیلاب کے بعد سے حکام پچھلے پانچ سالوں میں کیا کر رہے ہیں۔ اس نے کوئی ٹھوس قدم کیوں نہیں اٹھایا؟ ۔یہی نہیں بنچ نے حالات کو قابو میں نہ لانے کی صورت میں ازخود نوٹس لیتے ہوئے کارروائی شروع کرنے کا بھی انتباہ دیا ہے۔ ریاست میں اب بھی شدید بارش کا امکان ہے۔

دریں اثنا محکمہ موسمیات نے نیلگیرس، کوئمبٹور، ڈنڈیگل، تھینی، ٹینکاسی اور ترونیلویلی سمیت 14 اضلاع کیلئے 14 نومبر تک اورنج الرٹ جاری کیا ہے۔چنئی میں زیادہ تر سڑکیں اور سب وے پانی جمع ہونے کی وجہ سے اب بھی بند ہیں۔ کئی راستوں پر گاڑیوں کو دوسرے راستوں کی طرف موڑ دیا جا رہا ہے جس سے لوگوں کو پریشانی کا سامنا ہے۔

گریٹر چنئی کارپوریشن نے پانی کے اخراج کیلئے 23000 اہلکاروں کو تعینات کیا ہے۔ اسٹالن نے 15 کارپوریشن علاقوں میں امدادی کارروائیوں کی نگرانی کیلئے 15 آئی اے ایس افسران کو مقرر کیا ہے۔

بارش کی وجہ سے 16 میٹرو سب ویز زیر آب آگئی ہیں اور اب تک 14 سے پانی نکال لیا گیا ہے۔ ریاست کے کچھ حصوں میں نشیبی علاقوں میں رہنے والے لوگوں کے لیے الرٹ جاری کیا گیا ہے۔

چنئی کے 48 ریلیف کیمپوں میں 1107 لوگوں کو بھیج کر کل 350000 سے زیادہ فوڈ پیکٹ فراہم کیے گئے ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button