بین ریاستی خبریںسرورق

راج ٹھاکرے کی پارٹی ایم این ایس کا اعلان ،عید کے دن لاؤڈ اسپیکر پر کریں گے ’مہا آرتی‘

ممبئی،19؍اپریل:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)لاؤڈ اسپیکر کو لے کر مہاراشٹر میں سیاست گرم ہے۔ مہاراشٹر نو نرمان سینا (ایم این ایس) کی طرف سے اعلان کیا گیا ہے کہ 3 مئی کو اکشے ترتیا کی وجہ سے ریاست بھر میں اس کے کارکنان مقامی مندروں میں لاؤڈ اسپیکر پر مہا آرتی کریں گے۔ غور طلب ہے کہ عید کا تہوار بھی 3 مئی کو ہے۔

منگل کو اس معاملے پر راج ٹھاکرے کی رہائش گاہ پر پارٹی کی طرف سے ایک میٹنگ ہوئی۔ اس کا اعلان پارٹی نے اجلاس کے بعد کیا۔تاہم پارٹی لیڈر نتن سردیسائی نے یہ بھی کہا کہ 3 مئی کے الٹی میٹم پر ریاستی حکومت کے نئے رہنما خطوط جاری ہونے کے بعد ہی اگلی حکمت عملی طے کی جائے گی۔

ابھی یہ سننے میں آرہا ہے کہ ریاستی حکومت سپریم کورٹ کے رہنما خطوط کے تحت سب کے لیے قواعد جاری کرنے جارہی ہے، یہ اچھی بات ہے۔ یہ ہماری تحریک کا اثر ہے۔واضح رہے کہ حالیہ دنوں میں راج ٹھاکرے کی جانب سے مساجد میں بجنے والے لاؤڈ اسپیکر کو لے کر بیانات سامنے آرہے ہیں۔

حال ہی میں انہوں نے کہا تھا کہ لاؤڈ اسپیکر کا موضوع سماجی ہے، مذہبی نہیں اور اسے اسی نقطہ نظر سے دیکھنا چاہیے۔ اسی لیے ہم نے فیصلہ کیا کہ اگر آپ 5 بار لاؤڈ اسپیکر استعمال کریں گے تو ہم دن میں 5 بار مسجد کے سامنے ہنومان چالیسہ بھی پڑھیں گے۔ مجھے لگتا ہے کہ ہمیں کچھ چیزیں خود سمجھنی چاہئیں۔

مسلم سماج کو بھی سمجھنا چاہئے کہ ان کا مذہب اس ملک سے بڑا نہیں ہو سکتا، لوگ تکلیف میں ہیں، انہیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے۔ٹھاکرے نے کہا تھا کہ میں ملک بھر کے تمام محب وطن ہندوؤں سے کہنا چاہتا ہوں کہ تیار ہو جائیں، اب رمضان چل رہا ہے، اس لیے اب میں کچھ نہیں کہہ رہا اور نہ ہی کر رہا ہوں۔

لیکن 3 مئی تک اگر ان کی سمجھ میں نہیں آتا یا اس معاملے پر کچھ نہیں ہوا، اگر انہیں اپنا مذہب یا لاؤڈ اسپیکر سپریم کورٹ اور عدلیہ سے زیادہ اہم لگ رہا ہے، تو اس کوایسا ہی جواب دینا ضروری ہے۔ مہاراشٹر نو نرمان سینا کی طرف سے ہر طرح کی تیاریاں شروع کر دی گئی ہیں۔

ہم مہاراشٹر یا ملک میں کسی قسم کا فساد نہیں چاہتے، ہم کوئی تشدد نہیں چاہتے۔ جب ہمارے مذہب کے لوگ یاترا نکالتے ہیں اور اس یاترا پر پتھراؤ ہوتا ہے تو ہمارے لوگوں کے ہاتھ بندھے نہیں ہیں۔ ہم بھی پتھر اٹھا سکتے ہیں۔ ہمیں وہ ہتھیار اٹھانے پر مجبور نہ کریں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button