بین ریاستی خبریں

ر اجستھان پولیس محبت کے بھنور میں پھنس گئی، 3 کانسٹیبل معطل

سوائی مادھوپور،14جنوری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)ضلع کے کھنڈیپ ریلوے اسٹیشن کے قریب مشتبہ حالات میں ٹرین سے گر کرگڑھ کھیڑا کے رہنے والے ہریش بیروا کی موت کے معاملہ میں نیا موڑ آگیا ہے۔ اس معاملہ میں گنگا پور کی رہنے والی لڑکی اپنے اہل خانہ اور ایک درجن گاؤں والوں کے ساتھ صدر پولیس اسٹیشن پہنچی اور مظاہرہ کیا۔

لڑکی نے پولیس افسر کو شکایت دے کر مقتول کے بھائی اور دیگر رشتہ داروں کیخلاف عصمت دری اور دیگر دفعات کے تحت مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

پولیس سپرنٹنڈنٹ نے ہیڈ کانسٹیبل میٹھالال مینا اور صدر پولیس اسٹیشن کے کانسٹیبل منی راج اور روی کو اس معاملہ میں پہلی نظر میں لاپرواہی برتنے پر معطل کر دیا ہے۔ نیز معاملے کی جوڈیشل انکوائری کی جا رہی ہے۔لڑکی نے شکایت میں بتایا کہ وہ تین سال قبل متوفی ہریش بیروا سے ملی تھی۔ ہریش نے اسے محبت کا بہانہ بنا کر اپنے جال میں پھانس لیا۔ ایک دن جب وہ گھر میں اکیلی تھی تو ہریش اس کے گھر آیا۔

ہریش نے اس کی مرضی کے بغیر اس کے ساتھ جسمانی تعلقات بنائے،اس دوران ان کی فحش تصاویر بھی لی گئیں۔ لڑکی نے الزام لگایا کہ ہریش نے اس کی تصویر عام کرنے کی دھمکی دینے لگا اور اسے زبردستی اپنے ساتھ گڑھ کھیڑا لے گیا۔لڑکی کا الزام ہے کہ ہریش نے اسے وہاں یرغمال بنایا۔ لڑکی نے ہریش کے بھائی گووند پر بھی ریپ کا الزام لگایا ہے۔

وہیں ہریش کے بہنوئی اور دوسرے بھائی پر چھیڑ چھاڑ کرنے اور زبردستی جسمانی تعلقات کے لیے دباؤ ڈالنے کا بھی الزام ہے۔ لڑکی کا کہنا ہے کہ اس کے گھر والوں نے صدر پولیس اسٹیشن میں اس کی گمشدگی کا مقدمہ درج کرایا تھا۔ اس پر صدر تھانہ گڑھ گاؤں پہنچی اور اسے ہریش کے چنگل سے بچایا۔

لڑکی کا کہنا ہے کہ جب پولیس والے اسے ٹرین سے لا رہے تھے تو ہریش بھی ٹرین میں آ گیا، وہ ادھر ادھر دوڑنے لگا۔ اس دوران وہ ٹرین سے گر کر ہلاک ہوگیا۔ سوائی مادھوپور صدر پولیس نے لڑکی کی شکایت کے بعد ملزم کیخلاف مقدمہ درج کرلیا ہے۔

دوسری جانب ہریش کے والد نے اس معاملہ میں وزیر پور تھانے میں رپورٹ درج کرائی ہے۔ سری لال کا کہنا ہے کہ ان کے بیٹے کی کورٹ میرج 9 ستمبر 2021 کو گنگا پور کی رہائشی لڑکی سے ہوئی تھی۔ سری لال کا الزام ہے کہ لڑکی کے گھر والوں نے پولیس کے ساتھ مل کر اس کے بیٹے کو چلتی ٹرین سے نیچے پھینک دیا جس کی وجہ سے اس کی موت ہوگئی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button