بھیلواڑہ گینگ ریپ میں بڑا انکشاف،گینگ ریپ کے بعد نابالغ لڑکی کو بھٹی میں جلا دیا گیا
ملزمان کی بیویاں بھی واردات میں ملوث، سر اور سینے کی باقیات تالاب میں پھینک دی گئیں
بھیلواڑہ :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) بھیلواڑہ میں ایک معصوم لڑکی کو گینگ ریپ کے بعد بھٹی میں ڈالنے کے ہولناک واقعہ میں بڑا انکشاف ہوا ہے۔ تفتیش کے دوران معلوم ہوا ہے کہ اس واردات میں ملزم کی بیویاں اور بہنیں بھی ملوث تھیں۔ جلتی بھٹی میں پھینکے جانے کے چھ گھنٹے بعد جب بھٹی کھولی گئی تو سر کی باقیات اور سینے کے کچھ حصے نہیں جلے جس کو ملزمان نے اپنی بیویوں کے ساتھ مل کر دو کلو میٹر دور تالاب میں پھینک دیا تاہم اندھیے کی وجہ سے چند باقیات صرف بھٹی میں رہ گئیں۔
اس پورے واقعہ میں ملوث دو اہم ملزمان کے ساتھ ساتھ چار خواتین اور تین رشتہ داروں کو پولیس نے گرفتار کیا ہے۔ دوسری طرف ضلع کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس آدرش سدھو نے ضلع کلکٹر آشیش مودی کے ساتھ مل کر پورے معاملے کا انکشاف کیا۔ انہوں نے بتایا کہ دو دن کی تلاشی مہم کے بعد جمعہ کی صبح تالاب میں نابالغ کے جسم کے اعضاء ملے۔ ایف ایس ایل کی ٹیم نے نعش کے اعضاء مردہ خانے منتقل کر دیے ہیں۔ وہیں، پولس نے جمعرات کی دیر رات تک اس معاملے میں چار ملزمین کو گرفتار کیا ہے۔ اس کے علاوہ ملزم کے خاندان کی چار خواتین کو بھی حراست میں لیا گیا ہے۔
درحقیقت بدھ کو ضلع کے کوٹری تھانہ علاقے میں 14 سالہ نابالغ کے ساتھ اجتماعی عصمت دری کر کے قتل کر دیا گیا۔ جب بیٹی شام تک گھر نہیں لوٹی تو اہل خانہ کے ساتھ گاؤں والوں نے تلاش شروع کی۔ اس دوران رات 10 بجے متاثرہ کے والدین نے گاؤں سے 1 کلومیٹر دور کھیت میں کوئلے کی بھٹی جلتی ہوئی دیکھی۔ شک کی بنیاد پر وہاں پہنچنے پر نابالغ کا جوتا ملا۔ اس پر جب بھٹی پر موجود ملزمان سے پوچھ گچھ کی گئی تو انہوں نے بتایا کہ معصوم کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا کر جلا دیا گیا۔بھڑکتے انگاروں کے درمیان ہڈیاں ملی تھیں۔ملزم کے کہنے پر بھٹی کی تلاشی لی گئی جس میں چاندی کا کڑا اور کچھ ہڈیاں ملی ہیں تاہم سوال یہ تھا کہ نابالغ کی نعش کہاں ہے۔
پولیس نے پہلے دن چار ملزمان کو حراست میں لے کر پوچھ گچھ کی۔ پوچھ گچھ کے دوران انکشاف ہوا کہ انہوں نے لڑکی کے جسم کا آدھا جلا ہوا حصہ 2 کلومیٹر دور تالاب میں پھینکا تھا۔پولیس نے تفتیش کے بعد ملزمان کی والدہ، بیویوں اور بہنوں کو حراست میں لے لیا۔ دوسری جانب مرکزی ملزم کنہا (21) ولد رنگلال اور اس کے بھائی کالو (25) ولد رنگلال، سنجے (20) ولد پربھو اور ارود پھولیا کلا ساکنہ پپو (35) ولد امرناتھ عرف امرا کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ اب تک کی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ نابالغ کی عصمت دری کنہا اور اس کے بھائی کالو نے کی تھی۔



