قومی خبریں

راجستھان:اعلیٰ برادری ٹیچر کی وحشیانہ پٹائی سے دلت طالب علم جاں بحق

ملک آج بھی ’چھوت‘ کی بیماری سے آزاد نہیں ہوسکا

جالور، 14اگست:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)پورے ملک میں آج آزادی کی 75ویں سال منا یا جارہا ہے ، لیکن اب بھی چھوت کی بیماری میں ملک جکڑا ہوا ہے۔تن آزاد ہوگیا ، لیکن من اب بھی غلام ہے ۔ اسی تناظر میں راجستھان کے جالور ضلع میں اعلیٰ برادری ٹیچر کی پٹائی سے ایک دلت طالب علم کی موت کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ واقعہ ضلع کے سائلہ تھانہ علاقے کے گاؤں سورانا کے ایک پرائیویٹ اسکول کا ہے، جہاں ایک دلت طالب علم کو استاد نے بے دردی سے پیٹا، جس کی وجہ سے اسے اسپتال میں داخل کرانا پڑا، جہاں علاج کے دوران اس کی موت ہوگئی۔

پورے معاملے میں الزام ہے کہ دلت طالب علم نے پرائیویٹ اسکول کے آپریٹر کے برتن سے پانی پیا۔ اس بات پر اسے بے دردی سے مارا پیٹا گیا۔ وحشیانہ پٹائی سے طالب علم کو اندرونی چوٹیں آئیں، ایسے میں اس کے گھر والوں نے پہلے اسے مقامی اسپتال میں داخل کیا، پھر اسے احمد آباد لے گئے، جہاں اس کی موت ہوگئی۔طالب علم کی شناخت اندر کمار کے طور پر کی گئی ہے۔

اس پورے معاملے میں متوفی طالب علم کے چچا کشور کمار نے سائلہ پولیس اسٹیشن میں اسکول کے آپریٹر چھیل سنگھ کے خلاف حملہ کرنے ،ذات پات کے الفاظ استعمال کرنے، طالب علم کی تذلیل اور قتل کرنے کا مقدمہ درج کرایا ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ 20 جولائی کو اندر معمول کے مطابق اسکول گیا تھا جہاں اس نے پیاس لگنے پر اسکول میں رکھے پانی کے برتن سے پانی پیا۔ لیکن وہ مٹکا ٹیچر چھیل سنگھ کے لیے الگ رکھا گیا تھا۔

اس بارے میں اطلاع ملنے پر آپریٹر نے بچے کو نسل پرستانہ الفاظ سے ذلیل کیا اور بچے کو مارا پیٹا جس سے اس کے دائیں کان اور آنکھ میں اندرونی چوٹیں آئیں۔طالب علم نے اپنے والد کو واقعے سے آگاہ کیا، جس کے بعد اس کا مختلف اسپتالوں میں مسلسل علاج کیا گیا، تاہم 13 اگست کو اندرا علاج کے دوران دم توڑ گیا۔ فی الحال پولس نے پورے معاملہ میں ایس سی-ایس ٹی ایکٹ سمیت قتل کا معاملہ درج کرکے تحقیقات شروع کردی ہے۔

اس کے ساتھ ہی پولیس نے نجی اسکول کے آپریٹر کو بھی حراست میں لے لیا ہے۔ یہاں واقعے کے بعد علاقے میں کشیدگی بڑھ گئی ہے جس کے باعث حکومت کی ہدایات کے مطابق علاقے میں انٹرنیٹ سروس اگلے اطلاع تک بند کردی گئی ہے۔ملزم ٹیچر اور ایس سی/ایس ٹی ایکٹ کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کر کے گرفتاری عمل میں لائی گئی ہے۔ کیس کی جلد جانچ اور قصورواروں کو جلد سے جلد سزا دلانے کے لیے کیس آفیسر اسکیم کے تحت معاملہ اٹھایا گیا ہے۔ مقتول کے لواحقین کو جلد از جلد امداد کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔ مرنے والوں کے لواحقین کو 5 لاکھ روپے کی امدادی رقم چیف منسٹر ریلیف فنڈ سے دی جائے گی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button