
راجستھان: بہیمانہ اجتماعی عصمت دری : نابالغہ کے قتل کے بعد بھی درندے اس کی نعش کو نوچتے رہے ، ، ملزمان میں ایک نابالغ بھی شامل
کوٹہ ؍جے پور ، 4جنوری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)راجستھان کے کوٹہ ڈویژن کے بوندی نامی ضلع میں ایک آدی باسی نابالغ لڑکی کی اجتماعی عصمت دری اور قتل کے معاملہ میں ایک چونکا دینے والا سچ سامنے آیا ہے۔ اس دل دہلا دینے والے واقعہ کے بعد جب متوفیہ کی پوسٹ مارٹم رپورٹ سامنے آئی تو پولیس کی بھی آنکھیں بھی اشکبار ہوگئیں۔
پولیس ذرائع کے مطابق متوفیہ کی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ نابالغہ کے قتل کے بعد بھی درندے اس کی نعش کو نوچتے رہے ، اور ریپ انجام دیتے رہے ۔ مقتولہ کے نازک حصوں سمیت جسم پر 30 زخموں کے نشانات پائے گئے ہیں۔
پولیس کے مطابق یہ واقعہ 23 دسمبر کو بوندی ضلع کے باسولی تھانہ علاقے کے کالا کنواں نامی گاؤں کے قریب پیش آیا۔
اس واقعہ میں ایک نوجوان، ایک عمردار از جس کی عمر تقریباً 70سے متجازو ہے ، اور ایک نابالغ ملوث ہے۔ مقتولہ ان کے پڑوس میں رہتی تھی۔
نابالغہ جب جنگل میں جانور چرانے گئی تو اسے اکیلا دیکھ کر تینوں نے اس کے ہاتھ پاؤں باندھ کر اس کی اجتماعی عصمت دری کی گئی اس واقعہ کو اپنی دورانِ خدمت سب سے بڑا دردناک واقعہ قرار دیتے ہوئے بونڈی کے پولیس سپرنٹنڈنٹ جے یادو نے کہا کہ وہ ہر حال میں ملزم کو سزا دلائیں گے۔
اس دوران متاثرہ نے ان سے لڑتے ہوئے درندوں کے چنگل سے بھاگنے کی کوشش کی تھی، راز فاش ہونے کے ڈر سے ملزم نے لڑکی کا گلا دبا کر اور سر پر پتھر مار کر قتل کر دیا۔ معاملہ سامنے آنے کے بعد پولس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ضلع کے 10 تھانوں کی پولس کو واقعہ کی تحقیق میں لگایا تھا، مسلسل بھاگ دوڑ کے بعد پولیس نے 12 گھنٹے میں ملزم کو گرفتار کر لیا۔
معاملہ کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے پولیس نے اسے کیس آفیسر اسکیم کے تحت لے کر تحقیقات شروع کی۔ پولیس کو پوسٹ مارٹم رپورٹ مل گئی ہے۔ اب ایف ایس ایل کی رپورٹ کا انتظار ہے۔ اس کیس میں پولیس ملزمان کیخلاف ایک دو روز میں چالان عدالت میں پیش کرے گی۔
گرفتار ملزمان میں ایک 16 سالہ نابالغ سلطان بھیل (27) اور چھوٹولال بھیل (62) شامل ہے۔اس دلخراش واقعہ کی شدید مذمت کرتے ہوئے کونسل آف گورنرز نے بار کے کسی بھی رکن کی طرف سے ملزمان کی نمائندگی نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ کونسل نے کہا کہ ملزمان کو سخت سے سخت سزا دلانے کی کوشش کی جائے گی۔
پولیس نے اس معاملہ میں سب سے پہلے ملزم سلطان بھیل کو پکڑا تھا، اس کے بعد پوچھ گچھ کے دوران اس نے اپنے جرم کا اعتراف کرتے ہوئے دیگر ملزمان کے نام کی وضاحت کی تھی ، جس پر پولیس نے اسے بھی گرفتار کرلیا تھا۔



