فوجی حراست کے بعد مردہ ملے 3 شہریوں کے اہل خانہ سے راج ناتھ سنگھ کی ملاقات یقین دہانی کرائی ، کہا: واقعہ کے ملزمان کو قرار واقعی سزادی جائے گی
کچھ شہریوں کو فوج کی دو گاڑیوں پر دہشت گردانہ حملے کے بعد حراست میں لیا گیا تھا
سری نگر ، 27دسمبر :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) مرکزی وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے جموں کے پونچھ ضلع میں مبینہ طور پر فوجی حراست کے بعد مردہ پائے گئے تین شہریوں کے گھر والوں سے ملاقات کی اور کہا کہ انھیں انصاف ضرور ملے گا۔ دراصل کچھ شہریوں کو فوج کی دو گاڑیوں پر دہشت گردانہ حملے کے بعد حراست میں لیا گیا تھا۔ بعد میں تین شہری مردہ پائے گئے تھے جس کو لے کر کافی ہنگامہ ہوا اور اس پورے معاملے کی تحقیقات بھی شروع ہو گئی۔ اب مرکزی وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے بدھ کے روز مہلوکین کے اہل خانہ سے ملاقات کر ان کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا۔
ساتھ ہی وہ چار دیگر متاثرین کی عیادت کے لیے سرکاری میڈیکل کالج بھی پہنچے۔واضح رہے کہ پونچھ کے سورنکوٹ علاقہ میں 21 دسمبر کو ڈھیرا کی گلی اور بفلیاج کے درمیان دھتیار موڑ پر دہشت گردوں نے فوجی گاڑیوں پر حملہ کر دیا تھا جس میں چار فوجی شہید ہو گئے تھے اور تین دیگر زخمی ہوئے تھے۔ حملے کے بعد تین شہریوں سفیر حسین، محمد شوکت اور شبیر احمد کو مبینہ طور پر پوچھ تاچھ کے لیے فوج نے حراست میں لیا تھا جو 22 دمبر کو مردہ پائے گئے تھے۔
اس کے بعد سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر ویڈیو کلپ وائرل ہوا تھا جس میں مبینہ طور پر دکھائی دے رہا ہے کہ انھیں ظلم کا شکار بنایا جا رہا ہے۔ علاوہ ازیں چار دیگر شہریوں محمد ذوالفقار، ان کے بھائی محمد بیتاب، فضل حسین اور محمد فاروق کو جی ایم سی اسپتال، راجوری میں داخل کرایا گیا تھا۔ فوج اب بھی سورنکوٹ اور تھانہ منڈی کے جنگلوں میں دہشت گردوں کی تلاش کر رہی ہے۔بہرحال آج متاثرہ کنبوں سے ملاقات سے قبل راجناتھ سنگھ راجوری پہنچے تھے جہاں انھوں نے ہندوستانی فوجیوں کی بہادری پر فخر ظاہر کیا۔ انھوں نے کہا کہ اس بات کا پورا یقین ہے کہ فوج جموں و کشمیر سے دہشت گردی کو پوری طرح صاف کر دے گی۔ انھوں نے فوجیوں سے اپیل کی کہ ایسی کوئی غلطی نہ کریں جس سے ملک کے شہریوں کو نقصان ہو۔ انھوں نے مزید کہا کہ ملک کی سیکورٹی کے تئیں اپنی ذمہ داری نبھاتے ہوئے لوگوں کا دل جیتنا بھی فوجیوں کی ذمہ داری ہے۔



