
ہم فصل کاٹنے نہیں جائیں گے،حکومت غلط فہمی میں نہ رہے،احتجاج جاری رہے گا:راکیش ٹکیت

نئی دہلی: (اردودنیا.اِن)زرعی قوانین کے خلاف کسانوں کی تحریک وقت کے ساتھ ساتھ تیز ہوتی جارہی ہے۔ احتجاج کرنے والے کسانوں کی حکومت سے مذاکرات ابھی تک کسی حل تک نہیں پہنچ سکے ہیں۔ اب تک حکومت اورکسانوں کے مابین 10 سے زائد دور کے مذاکرات ہوچکے ہیں ، لیکن اس پر اتفاق رائے نہیں ہوسکا ہے۔
اگرچہ کسان تینوں زرعی قوانین کو مکمل طور پر ختم کرنے پر راضی ہیں ، لیکن حکومت کا زور قانون میں اصلاحات پر ہے۔ مشتعل کسان آج اس تحریک کے تحت ریل روکوتحریک کر رہے ہیں۔کسان رہنما راکیش ٹکیت نے سخت الفاظ میں کہا ہے کہ جب تک مطالبات تسلیم نہیں کیے جاتے ہم حرکت کرنے کو تیار نہیں ہیں۔
ضرورت پڑنے پر کاشتکار اپنی فصلیں نذر آتش کردیں گے
ہریانہ کے کھرک پونیا میں راکیش ٹکیت نے کہاہے کہ حکومت کو اس بات کی خوش فہمی میں نہیں آنا چاہیے کہ کسان اپنی فصلوں کی کٹائی کے لیے واپس آئیں گے۔اگراس کے لیے اصرار کیا گیا تو وہ اپنی فصل کو نذر آتش کردیں گے۔
Centre should not be under any misconception that farmers will go back for crop harvesting. If they insisted, then we will burn our crops. They shouldn't think that protest will end in 2 months. We'll harvest as well as protest: BKU's Rakesh Tikait in Kharak Punia, Haryana pic.twitter.com/0pHn4A0NTO
— ANI (@ANI) February 18, 2021
کسان رہنما ٹکیت نے کہا ہے کہ انہیں یہ نہیں سمجھنا چاہیے (حکومت کی نیت ہے) کہ احتجاج دو ماہ میں ختم ہوجائے گا۔ ہم کٹائی کے ساتھ احتجاج کرتے رہیں گے۔اہم بات یہ ہے کہ کسانوں کی ریل روکو کے پیش نظر آج ملک بھر میں سیکیورٹی کے انتظامات کیے گئے ہیں۔
ریلوے نے ریلوے سیکیورٹی فورسز کی 20 اضافی کمپنیاں کوپنجاب ، ہریانہ ، یوپی ، مغربی بنگال پر مرکوز رکھتے ہوئے تعینات کیا ہے۔ بھارتیہ کسان یونین کا کہنا ہے کہ اس تحریک کو پر امن رکھا جائے گا لیکن اس کے باوجود پولیس اپنی طرف سے ہر ممکن احتیاطی تدابیر اختیار کررہی ہے۔ملک کی متعدد ریاستوں میں پولیس الرٹ ہیں۔ متعدد حساس اضلاع میں پولیس اہلکاروں کی ایک بڑی تعداد اسٹیشنوں کے باہر تعینات کی گئی ہے۔



