نئی دہلی ،15؍ ستمبر :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)جیسے جیسے #اتر پردیش قانون ساز #اسمبلی کے انتخابات قریب آرہے ہیں ، ریاست میں سیاسی سرگرمیاں بڑھنے لگی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ سیاسی بیان بازی اور الزام تراشی کا دور بھی تیز ہو گیا ہے۔ #بھارتیہ کسان یونین کے رہنما راکیش #ٹکیت نے اسی سلسلے میں اے آئی ایم آئی ایم All India Majlis e Ittehadul Muslimeen رکن پارلیمنٹ اسد الدین اویسی کے بہانے حکمران بی جے پی کو نشانہ بنایا ہے۔
باغپت میں ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے راکیش ٹکیت نے کہاکہ بی جے پی کے’چاچا جان ‘ اسد الدین #اویسی اب یوپی آچکے ہیں ، وہ بھی اجلاس کر رہے ہیں لیکن اگر وہ بی جے پی کو گالی دیتے ہیں تو وہ بی جے پی ان کے خلاف خلاف مقدمہ درج نہیں کرائیںگے ۔ وہ سبھی ایک ٹیم کا حصہ ہیں۔مظفر نگر مہا #پنچایت کے بعد #راکیش ٹکیت ریاست کے مختلف علاقوں میں بی جے پی کے خلاف مہم چلا رہے ہیں اور کسانوں سے خطاب کر رہے ہیں۔
ٹکیت نے پھر الزام لگایا کہ بی جے پی حکومت سڑکیں ، بندرگاہیں ، کارخانے فروخت کرنے میں مصروف ہے۔ٹکیت نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے وعدہ کیا تھا کہ یکم جنوری 2022 تک وہ ملک کے کسانوں کی آمدنی کو دوگنا کر دیں گے لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسانوں کو یکم جنوری 2022 تک ان کی #فصل کی دوگنی قیمت نہیں ملتی تو ہم لوگوں کے درمیان جائیں گے اور کہیں گے کہ اس حکومت نے کچھ نہیں دیا ، اس لیے ہمیں اسے ووٹ بھی نہیں دینا چاہیے۔



