"جائیداد بھارت کی ہے، قبضہ کرنے والوں سے واپس لی جائے گی” بی جے پی ایم ایل اے رامیشور شرما
مدھیہ پردیش سمیت کئی ریاستوں میں پراپرٹی سروے کا کام بھی شروع ہو چکا ہے: رامیشور شرما
بھوپال، 9 اپریل (اردو دنیا نیوز/ایجنسیز): وقف ترمیمی بل کی منظوری کے بعد ملک بھر میں احتجاج کا سلسلہ جاری ہے، خاص طور پر جموں و کشمیر اور جنوبی ریاستوں میں مظاہرے دیکھنے میں آ رہے ہیں۔ ان مظاہروں پر ردعمل دیتے ہوئے مدھیہ پردیش کے بی جے پی ایم ایل اے رامیشور شرما نے متنازع بیان دیتے ہوئے کہا کہ جن لوگوں نے مسلمانوں کی قیادت کرتے ہوئے زمینوں پر قبضے کیے، اب وہ اپنی زمینیں کھونے پر پریشان ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں مسلمانوں کو پتھر تھمانے والے، اب چیخ رہے ہیں کہ یہ جائیدادیں حیدرآباد یا کشمیر کی ہیں۔
رامیشور شرما نے الزام لگایا کہ ان زمینوں پر مخصوص خاندانوں کا برسوں سے قبضہ رہا ہے، اور وقف جائیدادوں کو ذاتی املاک کی طرح استعمال کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اب جب حکومت ان قبضوں کو ختم کر رہی ہے تو شور و غل مچایا جا رہا ہے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ یہ زمینیں حکومت کی ملکیت ہیں اور انہیں عوامی فلاح کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ ان کے مطابق، ان جائیدادوں کو غریبوں میں تقسیم کیا جائے گا، تعلیمی ادارے، اسپتال، رہائشی مکانات اور بچوں کے کھیلنے کے میدان تعمیر کیے جائیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ وقف ترمیمی ایکٹ کو پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں اور صدر جمہوریہ کی منظوری مل چکی ہے، اور مدھیہ پردیش سمیت کئی ریاستوں میں پراپرٹی سروے کا عمل بھی شروع ہو چکا ہے۔ شرما نے کہا کہ بہت جلد یہ واضح ہو جائے گا کہ کن افراد یا خاندانوں نے غیر قانونی طور پر زمینوں پر قبضہ کیا ہے، اور ان کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ بی جے پی کسی کے دباؤ میں آنے والی نہیں، کیونکہ وہ بھگت سنگھ کے خون کے وارث ہیں۔



