بین ریاستی خبریں

حجاب تنازعہ پر سیاسی ہنگامہ، سی پی سنگھ نے ڈاکٹر نصرت سے متعلق متنازعہ دعویٰ کر دیا

سیاسی حلقوں میں شدید ردعمل

رانچی :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار سے جڑے حجاب تنازعہ کے درمیان اب جھارکھنڈ کے بی جے پی لیڈر سی پی سنگھ کے ایک بیان نے معاملے کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ سی پی سنگھ نے دعویٰ کیا ہے کہ جس خاتون ڈاکٹر کا حجاب مبینہ طور پر ایک عوامی تقریب میں کھینچا گیا، اس کا تعلق دہلی میں لال قلعہ کے قریب ہوئے بم دھماکے سے ہو سکتا ہے۔

سی پی سنگھ نے ایک نیوز چینل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہیں شبہ ہے کہ ڈاکٹر نصرت پروین کا تعلق دہلی کے قریب پیش آئے بم دھماکے سے ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے کی مکمل جانچ ہونی چاہیے تاکہ حقیقت سامنے آ سکے۔

ان کا کہنا تھا کہ نتیش کمار نے کسی غلط نیت سے حجاب نہیں ہٹایا بلکہ وہ ڈاکٹر کو بیٹی کی طرح دیکھ رہے تھے، مگر اس واقعے کو سیاسی رنگ دے کر بین الاقوامی سطح تک اچھال دیا گیا۔

 بی جے پی لیڈر نے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا کہ ڈاکٹر نصرت پروین کے تعلیمی اور ذاتی پس منظر کی مکمل جانچ کی جائے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آیا وہ واقعی ڈاکٹر ہیں، انہوں نے تعلیم ہندوستان میں حاصل کی یا بیرون ملک، اور ان کے روابط کن اداروں سے رہے ہیں۔ سی پی سنگھ کے مطابق یہ تمام نکات تحقیق کے بعد ہی واضح ہو سکتے ہیں۔

سی پی سنگھ نے جھارکھنڈ کے وزیر صحت عرفان انصاری کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ وزیر صحت کا یہ کہنا کہ وہ ڈاکٹر نصرت کو جھارکھنڈ لا کر تین لاکھ روپے تنخواہ دیں گے، نہایت غیر سنجیدہ بیان ہے۔

ان کے مطابق، "اگر کوئی ڈاکٹر آنا چاہتا ہے تو آئے، جسے علاج کروانا ہوگا وہ خود فیصلہ کرے گا۔ اس طرح کے بیانات سے صرف سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔”

سی پی سنگھ کے اس بیان کے بعد سیاسی حلقوں میں زبردست ردعمل دیکھنے میں آ رہا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں اور سماجی تنظیموں نے اس بیان کو اشتعال انگیز اور بے بنیاد قرار دیا ہے، جبکہ بی جے پی کی جانب سے ابھی تک کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button