عصمت دری کے مجرم ہندو مذہبی پیشوا آسارام کو ملی عمر قید کی سزا
احمد آباد شہر کے مضافات میں واقع ایک آشرم میں 2001 سے 2006 کے درمیان خاتون شاگرد کے ساتھ کئی بار عصمت دری کی گئی۔
گاندھی نگر ،31جنوری :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)گاندھی نگر کی ایک عدالت نے منگل کو سورت کی رہنے والی خاتون شاگرد کی عصمت دری کے الزام میں مجرم ثابت ہوئے 81 سالہ پیر فرتوت آسارام کو عمر قید کی سزا سنائی ہے ۔ اس سے قبل 25 اپریل 2018 کو جودھ پور کی عدالت نے یوپی میں ایک نابالغ کے ساتھ عصمت دری کے معاملے میں آسارام کو عمر قید کی سزا سنائی تھی۔ تب سے وہ جودھ پور جیل میں بند ہے۔کیس 22 سال پرانا ہے۔ 10 سال سے جیل میں بند آسارام کے خلاف ریپ کا یہ کیس 22 سال پرانا ہے۔ پھر اکتوبر 2013 میں احمد آباد کے چاند کھیڑا پولیس اسٹیشن میں ایف آئی آر درج کی گئی۔ ایف آئی آر کے مطابق احمد آباد شہر کے مضافات میں واقع ایک آشرم میں 2001 سے 2006 کے درمیان خاتون شاگرد کے ساتھ کئی بار عصمت دری کی گئی۔
وہ خاتون شاگرداس وقت آسارام کے آشرم میں رہتی تھی۔ پولیس نے جولائی 2014 میں اس معاملہ میں چارج شیٹ داخل کی تھی۔ آسارام کی بیوی سمیت چھ دیگر ملزمان تھے۔عدالت نے آسارام کو مجرم قرار دیا۔ ایک ملزم کی موت ہو گئی تھی۔ عدالت نے باقی 5 ملزمان کو عدم ثبوت کی بنا پر بری کر دیا۔پبلک پراسیکیوٹر R.C. کوڈیکر نے بتایا کہ مجرم ثابت ہوئے آسارام کو دفعہ 374، 377 کے تحت سزا سنائی گئی ہے۔ عدالت نے متاثرہ کو 50 ہزار روپے ہرجانہ دینے کا بھی حکم دیا ہے۔متاثرہ کی چھوٹی بہن نے آسارام کے بیٹے کے خلاف عصمت دری کا مقدمہ درج کرایا تھا۔ دونوں بہنوں میں سے چھوٹی نے آسارام کے بیٹے نارائن سائی اور بڑی بہن نے آسارام کیخلاف عصمت دری کی شکایت درج کرائی۔ بڑی بہن کی شکایت گاندھی نگر منتقل ہونے کی وجہ سے آسارام کے خلاف گاندھی نگر میں مقدمہ چلایا گیا، جس میں عدالت نے پیر کو آسارام کو مجرم قرار دیاتھا، آج اس جرم کی سزا سنائی گئی ہے ۔



