مطالعہ قلم کی غذا ہے-یعقوب مصطفی متعلم: جامعہ امام ابن تیمیہ
جب بھی آپ مطالعہ کرے سود مند کتابوں کی کرے فحش کتابوں کی مطالعہ کرنےکے بجائے وقت کو کھیل کود میں لگانا بہتر ہے۔لارڈ میکالے
دین اسلام کی نشر و اشاعت صرف تقریر و خطابت کے ذریعہ نہیں ہوئی بلکہ ہم تک دین اسلام کے پہنچنے میں ایک ایسے آلہ کا کردار رہا ہے جسکا ثمرہ آج ہمارے سامنے بہت زیادہ ہیں، جسے ہم صحافت، خط و کتابت اور تصنیف و تالیف کہتے ہیں- اور یہ تصنیف و تالیف شروع زمانے سے چلا آرہا ہے جسکے پاداش میں سیکڑوں کتابیں، حدیثیں، تفاسیر اور مقالات و مضامین منصئہ شہود پر آ چکی ہیں اور انشاءاللہ تا قیامت آتی رہینگی– اس کے ذریعے ہم قریہ قریہ، بستی بستی اور سماج و قوم میں دعوت الی اللہ کا پیغام دے سکتے ہیں- کیونکہ مکتوبات ضائع نہیں ہوتی لیکن زباں سے نکلی ہوئی بات زیادہ دیرپا نہیں ہوتی- ایک عربی مقولہ ہے کہ( من حفظ فر ومن کتب قر) جو چیز یاد کی جاتی ہے وہ غائب ہو جاتی ہے اور جو چیز لکھی جاتی ہے وہ برقرار رہتی ہے- کیوں کہ انسان خطاؤں کا پتلا ہے، حدیث رسولﷺ (کُلُّ بَنِیْٓ آدَمَ خَطَّاءٌ وَّخَیْرُ الْخَطَّآئِیْنَ التَّوَّابُوْنَ)
اسی طرح اللہ کے رسول ﷺ صحابہ کرام سے کہا کرتے تھے کہ جب میں کوئی حدیث بیان کروں تو تم لوگ اسے لکھ لیا کرو– اور اللہ کا فرمان (قُلْ هَذِهِ سَبِيلِي أَدْعُو إِلَى اللَّهِ عَلَى بَصِيرَةٍ أَنَا وَمَنِ اتَّبَعَنِي) اس آیت کی تفسیر میں مفسر قرآن کہتے ہیں کہ جب کوئی حوالہ دو اس کو قلم بند کر لیا کرو– اور حوالہ کے لئے مطالعہ ضروری ہے جب تک مطالعہ نہیں تب تک حوالہ نہیں دے سکتے ہیں– اس سے معلوم ہوا کہ مطالعہ بہت ضروری ہے
مطالعہ کردار و گفتار، قول و قرار، خط و کتابت، تصنیف و تالیف میں تقویت پیدا کرتی ہے ورنہ جسم میں ایک خوف پیدا ہوتا ہے، دل میں شکوک و شبہات کے کانٹے چبھتے ہیں، اندر ایک تزلزل پیدا ہو جاتا ہے-
مطالعہ کی اہمیت کے بارے گاندھی جی کا ایک قول ہے کہ "دنیا میں باعزت اور ذی عقل قوم بننے کے لئے مطالعہ ضروری ہے، انسان کو بام عروج لے جانے کا راز مطالعہ ہی ہے” مطالعہ انسان کی شخصیت کو نکھارتا ہے، مطالعہ دماغ کی ورزش ، عقل و خرد میں اضافے کا آزمودہ نسخہ، علم کے اندر گہرائی و گیرائی پیدا کرنے کا اعلی مداوا ہے، مطالعہ ذھن کے لئے ایک تفریحی شئی ہے، مطالعہ تنہائی کا بہترین ساتھی ہے، مطالعہ ضیاع وقت کا دشمن ہےکیوں کہ مطالعہ کرنے سے وقت خود بخود منظم ہو جاتا ہے– اور انسان کی زندگی میں وقت کی اہمیت از حد ہونی چاہئے، خاصا طور پر طلبہ کی زندگی میں- ایک جرمنی مصنف نے کھانے سے قبل پانچ منٹ کا وقت کو استعمال کرکے ایک کتاب ہی لکھ ڈالی ہے جسکا نام ( Five minute before meal) رکھا ہے– لیکن آج ہم طلبہ اپنی عمر عزیز کو لیت و لعل اور بےجا آرزو و انتظار میں گزار کر یہ حسرت کرتے ہیں کہ:-
عمر عزیز مانگ کر لائے تھے چار دن
دو آرزو میں کٹ گئے دو انتظار میں
کہا جاتا ہے کہ وقت کو سائنسداں کی طرح استعمال کرے کیوں کہ سائنسداں اپنے وقت کے اکثر و بیشتر حصہ کو مطالعہ یعنی غور و خوض میں لگائے رکھتا ہے جس کا ثمرہ یہ ہیکہ آج انسان چاند تک کا بھی سفر کر رہا ہے– محدثین عظام نے بھی مطالعہ کے ذریعے ہی کسی مسلئہ پر حکم لگاتے تھے- اگر دنیا میں کامیابی چاہتے ہیں تو مطالعہ از حد ضروری ہے اس کے ذریعے انقلاب لا سکتے ہیں ، کتنے ہی مردہ دلوں کے مسیحا کہلا ستے ہیں اور کتنے ہی سرداروں و بادشاہوں کو اپنی طرف مائل و قائل کر سکتے ہیں- شرط ہیکہ مطالعہ شوق سے کرے:- جس طرح طلوع آفتاب کے وقت دھیرے دھیرے دھیرے شب دیجور کی گھنگھور تاریکیاں ختم ہو جاتی ہیں سورج کی کرنیں انہیں بوریا بستر سمیٹنے پر مجبور کر دیتی ہیں، ٹھیک اسی طرح جب کسی فن میں دلچسپی و لگن کے ساتھ مطالعہ کیا جائے تو ذھن و دماغ کی تاریکیاں بھی چھٹ جاتی ہیں، دھیرے دھیرے ذہن روشن ہونے لگتا ہے اور ناواقفیت کا سلسلہ کافور ہوتا جاتا ہے-
مطالعہ اچھی کتابوں کا کرے:- لارڈ میکالے نے کہا تھا کہ جب بھی آپ مطالعہ کرے سود مند کتابوں کی کرے فحش کتابوں کی مطالعہ کرنے کے بجائے وقت کو کھیل کود میں لگانا بہتر ہے-
عربی مقولہ ہے:- کتابوں سے اچھا کوئی رفیق نہیں!
اسی کو ایک شاعر نے شعری انداز میں کچھ اس طرح کہا ہیکہ:- حصول علم ہے ہر اک فعل سے بہتر
دوست نہیں ہے کوئی کتاب سے بہتر
اس لئے میرے دوستوں! بہت زیادہ مطالعہ کرے کیوں کہ مطالعہ قلم کی غذا ہے اسکے ذریعے آپ لکھاڑی بن سکتے ہیں، اچھے قلم کار کہلا سکتے ہیں، صحافت کے میدان میں اپنی ایک پہچان بنا سکتے ہیں، قلم کے ذریعے دنیا و آخرت کو سنوار سکتے ہیں شرط ہے کہ مطالعہ جب بھی کرے اچھی کتابوں کی کرے ، اچھے ادیب و قلم کار کو پڑھے — أخیر میں میں اللہ رب العالمین سے دعا کرتا ہوں کہ ہم طلبہ کو وقت کا صحیح استعمال کرنے اور ہمارے اندر مطالعہ کرنے کا شوق ، جذبہ، تڑپ، امنگ، خواہش اور آرزو پیدا کرے آمین



