بین ریاستی خبریں

’گھرواپسی‘ کاسلسلہ جاری،بی جے پی میں جانے و الے لیڈران کو’غلطی کااحساس‘

کولکاتہ:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)مغربی بنگال اسمبلی انتخابات میں ٹی ایم سی کی فتح کے ساتھ ہی اقتدارکی ہوس میں جانے والے لیڈروں کی گھرواپسی شروع شروع ہوگئی۔ بنگال اسمبلی کی سابق ڈپٹی اسپیکر سونالی گوہا نے ہفتے کے روز کہا تھاکہ وہ ٹی ایم سی میں واپس جانا چاہتی ہیں۔اب ٹی ایم سی چھوڑنے والے بی جے پی میں شامل ہونے والے دو اور رہنماؤں نے ممتا بنرجی کی پارٹی میں آنے کے بارے میں بات کی ہے۔

مالدہ ضلع پریشد کی رکن سرلا مرمو کا کہنا ہے کہ انہیں اپنی غلطی کا احساس ہو گیا ہے اور اب وہ واپس آنا چاہتی ہیں۔ ان کے علاوہ شمالی دیناج پورسے سابق ایم ایل اے ، امول آچاریہ نے بھی ٹی ایم سی میں واپس آنے کی بات کی ہے۔ آچاریہ کا کہنا ہے کہ ٹی ایم سی کے سینئر رہنماؤں کے خلاف سی بی آئی کی کارروائی غلط ہے اور یہی وجہ ہے کہ وہ بی جے پی کو چھوڑنا چاہتے ہیں۔سرلا مرمو کو ٹی ایم سی کی جانب سے اسمبلی انتخابات میں حبیب پور نشست سے امیدوار قرار دیا گیا تھا۔

تاہم انتخابات سے پہلے انہوں نے شبھندو ادھیکاری کے کہنے پر بی جے پی میں شمولیت اختیار کی۔ لیکن ٹی ایم سی نے ضلع کی 12 میں سے 8 نشستوں پر کامیابی حاصل کی۔ اب سرلا مرمونے ایک بار پھر اپنی پرانی پارٹی میں واپس آنے کا فیصلہ کیا ہے اور قائدین سے رابطہ کیاہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹی ایم سی چھوڑنا ان کی غلطی تھی۔ سرلا مرمو نے کہا ہے کہ بی جے پی میں شامل ہونا میری غلطی تھی۔اب جب وزیراعلیٰ نے پارٹی چھوڑنے والوں سے دوبارہ آنے کی اپیل کی ہے تو میں پارٹی میں واپس آنا چاہتا ہوں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button