بین الاقوامی خبریںسرورق

کٹر مذہبی یہودیوں کے لازمی فوجی خدمات کیلئے بھرتیاں شروع ہوگئیں

اسرائیل کا بڑے آپریشن سے قبل خان یونس کے مشرقی علاقوں کو خالی کرنے کا مطالبہ

مقبوضہ بیت المقدس،22جولائی :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)اسرائیلی فوج نے 1000 انتہائی کٹرمذہبی یہودیوں کو ‘کال اپ’ نوٹس دیتے ہوئے انہیں فوج کی لازمی ملازمت کے لیے بلا لیاہے۔ تاہم خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ انتہائی کٹر مذہبی یہودی کمیونٹی اور فوج کے درمیان اس سے کشیدگی مزید بھڑک سکتی ہے۔اس سلسلے میں اسرائیلی سپریم کورٹ نے پچھلے ماہ حکم دیا تھا کہ وزارت دفاع اب مزید تاخیر کیے بغیر انتہائی کٹر قسم کے یہودیوں کو بھی فوج میں لازمی ملازمت کے لیے بھرتی کرنا شروع کریں۔ کیونکہ ان کو جس جنگی صورت حال کا سامنا ہے اس میں کسی بھی اسرائیلی کمیونٹی کو لازمی فوجی خدمات سے مکمل استثنیٰ نہیں دیا جاسکتا۔

اس سے قبل 1948 سے اسرائیل میں یہ بندوبست جاری ہے کہ انتہائی کٹر مذہبی یہودیوں کے لیے لازم نہیں ہے کہ وہ باقی اسرائیلیوں کی طرح فوج میں خدمات انجام دیں گے۔اس قانون میں تبدیلی کے حوالے سے نیتن یاہو کی مخلوط حکومت میں موجود دو انتہائی دائیں بازو کی جماعتوں نے عدالتی فیصلے کی سخت مخالفت کی ہے۔ تاہم اسرائیلی وزیر دفاع یوو گیلنٹ وزیراعظم نیتن یاہو اور ان کے اتحادیوں کے مو?قف سے اختلاف کرتے ہیں۔انتہائی کٹر مذہبی یہودی کمیونٹی کے لیڈروں کا موقف ہے کہ فوج میں سیکولر اسرائیلیوں اور خصوصا خواتین کے ساتھ رہنا ہمارے مذہبی نوجوانوں اور ان کی شناخت کے لیے تباہ کن ہوگا۔ مذہبی یہودی ہونے کی ان کی شناخت ختم ہو کر رہ جائے گی۔

اس وجہ سے کئی یہودی ربیوں نے ریاست کے اندر ریاست کے انداز میں کٹر مذہبی نوجوانوں سے کہا ہے کہ جب انہیں فوج میں لازمی بھرتی کا یا لازمی خدمات کا کوئی خط ملے تو اسے جلا دیا جائے۔ لیکن اب تک کی اطلاعات کے مطابق ابھی تک سب نوجوانوں نے لازمی فوجی خدمات کے لیے موصول ہونے والے فوجی خط کو جواب نفی میں نہیں دیا ہے۔اسرائیلی فوج نے ان نئی بھرتیوں کے لیے فوج کیاندر کئی نئے ہونٹ قائم کیے ہیں تاکہ انہیں فوج میں کھپایا جا سکے۔اتوار کے روز یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ان کٹر مذہبی یہودیوں میں سے بعض نے پہلے ہی فوج میں بھرتی ہونا قبول کر لیا تھا۔ تاکہ کسی نئی مشکل کا سامنا نہ کرنا پڑے۔لیکن ایسے بھی ہیں جنہوں نے اعلان کیا ہے کہ وہ کبھی بھی فوج میں لازمی خدمات انجام نہیں دیں گے۔ انہیں مخلوط حکومت میں شامل انتہا پسند جماعتوں کی حمایت بھی حاصل ہے

اسرائیل کا بڑے آپریشن سے قبل خان یونس کے مشرقی علاقوں کو خالی کرنے کا مطالبہ

مقبوضہ بیت المقدس،22جولائی:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)اسرائیلی فوج نے پیر کے روز غزہ کی آبادی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بڑے آپریشن سے پہلے خان یونس شہر کے مشرقی علاقوں کو خالی کر دیں۔فوجی بیان میں کہا گیا ہے کہ ان علاقوں کو خالی کرنے کا مطالبہ یہاں پر قابل ذکر سرگرمیوں اور اسرائیل پر راکٹ داغے جانے کے بعد کیا گیا ہے۔اسرائیلی فوج کے مطابق انسانی علاقہ قرار دیے جانے والے علاقے سے راکٹ گرینیڈز داغے جانے اور مسلح افراد کی کارروائیوں کا سلسلہ پھر سے شروع ہونے کے خلاف ”پوری طاقت” استعمال کی جائے گی۔اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ وہ شہری آبادی کو لڑائی کے علاقوں سے دور رکھنے کے لیے انسانی علاقے کی حدود پر غور کر رہی ہے۔

حماس کی جانب سے سات اکتوبر 2023 کو اسرائیل پر ہونے والے حملے میں 1195 افراد مارے گئے تھے جن میں زیادہ تعداد شہریوں کی ہے۔ یہ اعداد و شمار اسرائیل کی جانب سے فراہم کیے گئے۔اسی طرح 251 افراد کو یرغمال بنا لیا گیا تھا جن میں سے 116 افراد ابھی تک غزہ میں ہیں۔اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ ان میں 42 مر چکے ہیں۔اسرائیل کی جانب سے غزہ کی پٹی میں جوابی انتقامی کارروائی میں اب تک کم از کم 38,983 افراد جانوں سے ہاتھ دھو چکے ہیں۔ غزہ کی پٹی میں فلسطینی وزارت صحت کے مطابق مرنے والوں میں زیادہ تر عام شہری ہیں۔اسرائیل میں کئی ہفتوں سے جاری مظاہروں اور ریلیوں میں قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button