
ریڈ بُل کو ’انرجی ڈرنک‘ لکھنے کی فی الحال اجازت، دہلی ہائی کورٹ نے FSSAI کا حکم کالعدم قرار دے دیا
عدالت نے کمپنی کو جواب دینے کا موقع نہ ملنے پر FSSAI کا حکم منسوخ کیا
نئی دہلی، 29 ستمبر :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) ریڈ بُل کو اپنی مصنوعات کے لیبل پر ’Energy Drink‘ کی اصطلاح استعمال کرنے کے معاملے میں دہلی ہائی کورٹ سے فی الحال راحت مل گئی ہے۔ عدالت نے فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز اتھارٹی آف انڈیا (FSSAI) کی جانب سے 30 جون 2026 کو جاری حکم کو منسوخ کر دیا، جس کے ذریعے کمپنی کو اپنی مصنوعات پر ’Energy Drink‘ لکھنے سے روک دیا گیا تھا۔
جسٹس امیت مہاجن نے ریڈ بُل کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے قرار دیا کہ کمپنی کو کارروائی سے قبل جواب دینے یا اپنی وضاحت پیش کرنے کا مناسب موقع نہیں دیا گیا تھا۔ عدالت نے اسی بنیاد پر FSSAI کا حکم کالعدم قرار دیا۔
عدالت کے فیصلے کے بعد فی الحال ریڈ بُل کو 30 جون کے اسی حکم کے تحت اپنی مصنوعات کے لیبل سے ’Energy Drink‘ کی اصطلاح ہٹانے کی ضرورت نہیں ہے۔ تاہم، ہائی کورٹ نے یہ فیصلہ نہیں دیا کہ فوڈ لیبلنگ کے موجودہ قوانین کے تحت اس اصطلاح کا استعمال مستقل طور پر جائز ہے یا نہیں۔
معاملہ اس وقت شروع ہوا جب FSSAI نے ریڈ بُل کو اپنی مصنوعات پر ’Energy Drink‘ کی اصطلاح استعمال نہ کرنے کی ہدایت دی۔ کمپنی نے اس کارروائی کو دہلی ہائی کورٹ میں چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ ریگولیٹر کی جانب سے فیصلہ لینے سے پہلے اسے جواب داخل کرنے اور اپنی وضاحت دینے کا موقع نہیں دیا گیا۔
سماعت کے دوران عدالت نے اس بات کو اہم قرار دیا کہ 30 جون کا حکم ریڈ بُل کو کسی قسم کا جواب یا وضاحت پیش کرنے کا موقع دیے بغیر جاری کیا گیا تھا۔ عدالت نے اس طریقہ کار کو قدرتی انصاف کے اصولوں کے منافی قرار دیتے ہوئے متعلقہ حکم منسوخ کر دیا۔
ہائی کورٹ نے ساتھ ہی یہ بھی واضح کیا کہ FSSAI اس معاملے کو دوبارہ دیکھنے سے روکا نہیں گیا ہے۔ فوڈ ریگولیٹر چاہے تو کمپنی کو نیا شوکاز نوٹس جاری کر سکتا ہے، جس کے بعد ریڈ بُل کو جواب دینے اور سماعت کا موقع فراہم کیا جائے گا۔
اس کے بعد FSSAI قانون اور متعلقہ فوڈ لیبلنگ ضوابط کی روشنی میں نیا فیصلہ لے سکتا ہے۔ یعنی عدالت نے ’Energy Drink‘ کی اصطلاح کے استعمال سے متعلق بنیادی قانونی سوال پر حتمی فیصلہ نہیں دیا ہے۔
دہلی ہائی کورٹ کے موجودہ فیصلے کا دائرہ بنیادی طور پر کارروائی کے طریقہ کار تک محدود ہے۔ ریڈ بُل کو FSSAI کے 30 جون کے حکم سے وقتی راحت مل گئی ہے، جبکہ فوڈ ریگولیٹر مناسب قانونی طریقہ کار مکمل کرنے کے بعد لیبلنگ کے معاملے پر دوبارہ کارروائی کر سکتا ہے۔



