
نئی دہلی ، ۲۴؍اگست :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)دہلی کی ایک ٹرائل کورٹ نے یوم جمہوریہ کے موقعہ پر لال قلعہ تشدد زواقعہ کی تحقیقات کے سلسلے میں کسی کسان رہنما کو طلب نہ کرنے پر دہلی پولیس کی سرزنش کی ہے۔ #ٹائمز آف انڈیا میں شائع رپورٹ کے مطابق ایڈیشنل سیشن جج گگن دیپ سنگھ نے کہا کہ کسانوں کے لیڈران کی کال پر جن کسانوں نے ایجی ٹیشن میں حصہ لیا، انہیں تحویل میں لے لیا گیا ہے ، تاہم کسی بھی لیڈر کو تحقیقات کے لیے طلب نہیں کیا گیا۔ گگن دیپ سنگھ نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ #تفتیشی افسرقانونی دائرۂ کار میں تفتیش کے بجائے اپنی سہولت کے مطابق تفتیشی عمل انجام دے رہے ہیں ۔
اس سے قبل عدالت نے پولیس کو ایف آئی آر میں نامزد 35 #لیڈران کے حوالے سے رپورٹ درج کرنے کی ہدایت دی تھی۔مذکورہ جج نے کہا کہ پولیس کی جانب سے دائر کی گئی رپورٹ معاملے کو ٹالنے کی کوشش ہے۔ تفتیشی افسر نے ایک ویڈیوپلے کی کوشش کی ، جس کے بارے میں خیال کیا جاتا تھا کہ وہ گنگسٹر سے سرگرم کارکن لکھا سدھانا کے خلاف اہم ثبوت ہے ، لیکن یہ درست نہیں ہے۔ خیال رہے کہ عدالت سدھانا کی پیشگی ضمانت کی درخواست پر سماعت کر رہی تھی۔
جج نے کہا کہ ویڈیو کا #آڈیو درست نہیں ہے اور یہ معلوم نہیں کیا جا سکتا کہ سدھانا مظاہرین کو کیا کہہ رہے تھے۔ عدالت نے پولیس سے کہا ہے کہ وہ سدھانا کی تقریر سے متعلق ایک مناسب #ویڈیو پیش کرے،جس میں وہ مظاہرین کو اکسا رہاہو ۔سدھانہ کی طرف سے پیش ہونے والے سینئر ایڈوکیٹ رمیش گپتا نے عدالت کو بتایا کہ اس واقعے کے 12 گھنٹے بعد ایک ایف آئی آر درج کی گئی اور دیگر رہنماؤں کے علاوہ 35 رہنماؤں کے نام لیے گئے ، لیکن آٹھ ماہ گزر جانے کے بعد بھی ان میں سے کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔
اور نہ ہی کسی کو تحقیقات میں شامل کرنے کے لیے طلب کیا گیا ہے۔ پولیس کی جانب سے پیش ہونے والے ایڈیشنل پبلک پراسیکیوٹر جی ایس گوآریا نے اعتراف کیا کہ دائر کردہ رپورٹ مبہم ہے اور اس میں عدالت کی طرف سے اٹھائے گئے امور کا احاطہ نہیں کیا گیا ہے۔



