سرورقسیاسی و مذہبی مضامین

بچوں کی دینی تعلیم و تربیت لازمی ہے-مدارس کو بدنام کرنے کی ایک سازش

حبیب الامت حضرت مولانا ڈاکٹر حکیم محمد ادریس حبان رحیمی

آج مدارس کو نشانہ بنایا جارہا ہے لیکن مدرسہ میں پڑھنے والا آپ کو دہشت گرد نہیں ملے گا، مدرسہ میں پڑھنے والا آپ کو ملک کا غدار نہیں ملے گا، مدرسہ میں پڑھنے والا استاذ کے منھ پر تھوکنے والا نہیں ملے گا، مینجمنٹ کو برا بھلا کہنے والا نہیں ملے گا، ان سب کے باوجود مدارس دہشت گردی کے اڈّے ہیں، مدرسوں میں دہشت گردی کی تعلیم دی جاتی ہے، مدارس کے طلبہ ملک میں دہشت گردی کو پھیلاتے ہیں، مدارس کے طلباء ملک ووطن کے وفادار نہیں۔ سوچی سمجھی پلاننگ کے تحت یہ سب کچھ ہورہا ہے، چونکہ مدارس کے اندر انسانیت سکھائی جاتی ہے، عمدہ طریقہ سے رہنے سہنے اور زندگی گذارنے کے ڈھنگ اور طریقے سکھائے جاتے ہیں، شیطان کو یہی سب چیزیں نہیں بھاتی، وہ کب پسند کرسکتا ہے کہ قرآن وحدیث کی تعلیم دی جائے اور معاشرے کے اندر سدھار پیدا ہو، وہ تو بے حیائی اور آوارگی کو پسند کرتا ہے اور مدارس کی مخالفت کرتا ہے، اور کہتا ہے کہ اسکول اور کالج بہت اچھی چیز ہیں، الحمدللہ اسکول کی تعلیم سے کوئی انکار نہیں، آپ اونچی سے اونچی تعلیم دلائیں لیکن اسلامی تعلیمات سب سے مقدم ہیں، علامہ اقبالؒ نے فلسفہ بیان کیا ہے۔ ؎

تم شوق سے کالج میں پڑھو
پارک میں پھولو چرخ پہ جھولو
جائز ہے غباروں میں اڑو
بس اک سخن بندۂ عاجز کی رہے یاد
اللہ کو اور اپنی حقیقت کو نہ بھولو
دنیا کی سب سے عظیم یونیورسٹی

آپ باہر ملکوں میں جایئے، مسلمانوں نے بڑے بڑے کالج اور یونیورسٹیاں قائم کر رکھی ہیں، ان کو دیکھ کر رشک آئے گا کہ ایسی یونیورسٹیاں ہمارے ہندوستان میں بھی ہونی چاہئیں،مصر میں بڑے بڑے کالج ہیں، جامعہ ازہر دنیا کی سب سے عظیم یونیورسٹی ہے، جو مسلمانوں کی ہے، جہاں دس ہزار لکچرر اور ایک لاکھ طلباء زیر تعلیم ہیں، الف باء سے لے کر پائلٹ تک کی تعلیم ہوتی ہے، صنعت وحرفت کے سارے شعبے وہاں موجود ہیں۔ مجھے کئی سال پہلے یہ پڑھ کر بڑی خوشی ہوئی کہ ایک مصری نوجوان پائلٹ مصر سے جہاز لے کر اڑتا ہے اور لندن پہنچنے تک تیرہ پارے پڑھ لیتا ہے، حافظ بھی ہے اور پائلٹ بھی، پھر لندن سے امریکہ ہوتا ہوا مصر آتا ہے تو سترہ پارے پڑھ لیتا ہے اور کہتا ہے کہ میرا آنا جانا دو تین دن میں ہوتا ہے تو میں پورا قرآن پڑھ لیتا ہوں۔ وہ بھی یونیورسٹی کے پڑھے ہوئے ہیں، لیکن مسلم یونیورسٹی کے پڑھے ہوئے ہیں۔

ہمارے یہاں بنگلور میں الامین کالج ہے، اسی طرح دہلی میں جامعہ ملیہ ہے جس کی بنیاد حضرت شیخ الہند نے رکھی ہے، وہاں کے طلباء ماشاء اللہ عربی میں بھی کلام کرتے ہیں، وہاں مسلم بھی ہوتے ہیں اور غیر مسلم بھی، ظاہر ہے کہ ایسے کالجوں اور اسکولوں کو کون برا کہتا ہے، جس طرح دنیوی تعلیم کی طرف آپ توجہ دیتے ہیں اس سے کہیں زیادہ دینی تعلیم کی طرف توجہ مبذول کرنے کی ضرورت ہے، بڑی سے بڑی ڈگری آپ حاصل کرلیں، لائر بن جائیں، ڈاکٹر ، انجینئر بن جائیں، بڑے منسٹرہی کیوں نہ بن جائیں یعنی دنیوی تعلیم حاصل کرکے آپ خواہ کتنے ہی بڑے کیوں نہ بن جائیں لیکن یہ سب صرف دنیا ہی تک محدود ہے، اس لئے دینی تعلیم بہت ضروری ہے۔

اولاد نعمت ہے

مادی ضروریات زمانے کے اعتبار سے بدلتی رہتی ہیں،جیسے جیسے زمانہ بدلتا ہے انسان کی اپنی ضروریات بھی بدلتی ہیں اور اس میں تغیرات بڑی تیزی کے ساتھ رونما ہوتے ہیں ۔ حضور اکرم ﷺ جو ساری دنیا کے نہیں بلکہ ساری کائنات کے محسن ہیںاورمحبوب رب العالمین ہیں، جب حضورﷺکے بیٹے حضرت قاسم کا انتقال ہوگیا تو کفار ومشرکین جو آپﷺسے بغض وعناد رکھتے تھے وہ بڑے خوش ہوئے اورکہا کہ (نعوذ باللہ ) محمدﷺ کی جڑ کٹ گئی یعنی آپ کی اولا اورنسل دنیا میں نہیںرہی لیکن اللہ تعالیٰ نے جواب دیا، مگربات یہاں سمجھنے کی یہ ہے کہ دنیا میں اولاد بڑی نعمت ہے۔ اپنی مادی اعتبار سے بھی اور مذہبی اعتبار سے بھی اولاد اللہ کی بہت بڑی نعمت ہے، یہ بات میں نے پہلے بھی عرض کی تھی کہ جس کو اولاد نہ ہو اس سے کوئی پوچھے کہ اولا دنہ ہونے کا دکھ کیسا ہوتا ہے۔

مستقبل کی کوئی گارنٹی نہیں

انسان اپنی اولاد کے لئے کتنی تکلیف اٹھاتا ہے خاص طور سے آج کے دور میں پیدا ہونے سے لے کر کوئی لمحہ ایسا نہیں ہوتا کہ انسان پر پیسہ خرچ نہ ہو پہلے تو گھر میں ولادت ہوتی تھی معمولی سے پیسے خرچ ہوتے تھے آج ولادت گھر میں نہیں ہوتی ہاسپیٹل ہی میں ہوتی ہے۔ کہیں زیادہ کہیں کم بہر حال پیسہ خرچ ہوتا ہے اور جب یہ پیسہ خرچ ہوتا ہے تو اس کی تیاری پہلے سے ہوتی ہے۔ کتنی تکالیف سے اور کتنے جتن سے اور کتنی حکمتوں سے اس پیسے کو بچایا جاتا ہے کہ ڈلوری ہونے والی ہے اتنا پیسہ رکھا جائے۔ اب یہ بچہ شیر خوار ہے دودھ پی رہا ہے اس پر خرچ ہے یہ بڑا ہوگیا ہے اسکول جانے کے لائق ہو گیا ہے تو اب اس کی فکر ہے ۔

پہلے تو یہی تھا کہ صاحب اسکول یا مدرسے میں بھیج دو۔ اب ایسا نہیں ہے اب توڈونیشن دینا پڑتا ہے بعض اسکولوں میں تو بچہ پیدا ہوتے ہی انٹری کرتے ہیں کہ صاحب آج کی تاریخ میں ہمارے یہاں بچہ پیدا ہوا ہے یا بچی کا حساب لگاکر ڈیٹ لکھ دیتے ہیں کہ فلاں ڈیٹ میں آپ بچے کوداخل کریں، یہ داخلہ فری نہیں ہوگا ۔ اس کیلئے ڈونیشن دینا ہے فیس دینا ہے اور جتنے بھی لوازمات ہیں وہ سارے پورے کرنا ہے ۔ اور ادا کرنے کے بعد بھی آپ کے بچے کے مستقبل کی کوئی گارنٹی نہیں کہ آپ کا بچہ ڈاکٹر بن جائے گا لائر بن جائے گا انجینئر بن جائے گا یا کچھ اور بن جائے گا یا میکانک بن جائے گا ، اتنی تکالیف اٹھانے کے بعد والدین کی آنکھیں اصلاح وتربیت کی طرف سے بند ہیں۔

بچے سے لاڈ پیار شریعت کے حدود میں کریں

آج بچوں کو اچھے لباس پہنادیں تو خوش ، بچے کوان کے منہ مانگے پیسے دے دیئے تو خوش، بچوں کو شہر کے بہترین اسکول میںداخلے دلادیا تو بے حد خوش ہیں، ہماری امیج ہماری عزت ہمارے رشتہ داروں میں ہمارے دوستوں میں بہت ہے کہ فلاں صاحب کا بچہ تو فلاں اسکول میں پڑھتا ہے ۔ قیامت کے دن یہ نہیں پوچھا جائے گا وہاں تو یہ پوچھا جائے گا کہ اولاد کی تربیت کیسی کی ؟ یہ نہیں پوچھا جائے گا کہ بڑے بڑے اسکولوں میں داخلہ دلایاتھا ؟ بچہ کو ہزار روپئے کا ایک ڈریس پہنا دیا ٹھیک ہے،اللہ کے یہاں اولاد کی ہر چیز پر اجر ہے۔

میرے پاس ایک صاحب آئے ان کے ساتھ ان کی تین سال کی بچی تھی ، وہ ایسا لباس بچی کو پہنا کر لائے تھے کہ دونوں مونڈھے وغیرہ کھلے ہوئے، اوپر کا پورا بدن ننگا تھا، میں نے پوچھا آپ مسلمان ہیں؟ کہا الحمد للہ ،آپ کی بیوی مسلمان ہے ؟کہا جی ہاں اور یہ بچی مسلمان ہے،کہا جی ہاں؟میں نے کہا کہ آپ کے باپ بے وقوف تھے کہ آپ کو شریعت کے مطابق لباس پہنایا ،آ پ زیادہ عقل مند ہیں کہ آپ نے اپنی بچی کو ایسا لباس پہنایا ، وہ صاحب شرمندہ ہوئے میںنے کہا ، آج بچی کو جیسا لباس پہنائیں گے،کل وہ ویسا ہی لباس پہنے گی، کل یہ جب ننگی پھرے گی ، جب دنیا میں آپ کی بدنامی ہوگی تو آپ روئیں گے ، آج آپ اس کو خود ننگا کررہے ہیں۔

معاشرہ آج ایک عجیب وغریب قسم کا ہوگیا ہے ،ہر چیز کے اندر عیب پیدا ہوگیا ، ہر چیز کے اندر نقص آگیا ،بگاڑ پیدا ہوگیا ، حضور اکرم eارشاد فرماتے ہیں کہ جوانسان اپنی بیوی کو لباس پہناتا ہے ، جب تک وہ پہنتی رہے تو اس کا ثواب چوبیس گھنٹے اس کے نامہ ٔاعمال میں لکھا جاتاہے جو لباس اپنی اولاد کو پہنائے گا اس کا ثواب چوبیس گھنٹے اس کے نامۂ اعمال میں لکھا جائے گا، لیکن ایسا لباس جس سے ہمارے بچے انگریز نظر آئیں جس سے ہماری بچیاں طوائف نظر آئیں، فاحشہ نظر آئیں ۔اَسْتَغْفِرُاللّٰہ

بچوں کی حفاظت کریں

آئے دن اخبارات میں پڑھتے اور سنتے ہیں کہ فلاں صاحب کا بچہ ایم بی بی ایس کررہا تھا، فلاں صاحب کا بیٹا انجینئرنگ کررہا تھا ۔ موٹرسائیکل سے جارہا تھا اچانک لاری نے کچل دیا اللہ تعالیٰ نے جس کی موت جیسی رکھی ہے ویسے ہی آئے گی کوئی آدمی کسی کو بچا نہیں سکتا لیکن یہ ساری چیزیں حفاظت کے دائرے میں آتی ہیں،ابھی تعلیم پوری نہیں ہوئی ابھی زیر تعلیم ہے، ضرورت سے زیادہ آزادی ہم نے بچوں کو دی ہے لیکن تربیت کی، پرورش کی اور اصلاح کی ضرورت نہیں سمجھتے ۔ اس کے نتیجے میں یہ سارے بگاڑپیدا ہورہے ہیں، بچہ چھوٹا سا ہوتا ہے ماں یا باپ کے منھ پر ایک طمانچہ مارتا ہے توماں باپ خوش ہوتے ہیں ہمارا بچہ کتنا اچھا ہے دیکھو کتنے زور سے مارا ہے بہت پیار آتا ہے، لیکن اب اسے روکا نہیں گیا تو دوسال کے بعد تین سال کے بعد بھی مارے گا ۔

آج اس دورمیں اصلاح وتربیت والدین کے لئے اتنی ہی زیادہ ضروری ہے جتنا کہ بچے کے داخلے کے لئے پیسے وغیرہ کا انتظام ضروری ہے ، اصلاح وتربیت اس سے بھی زیادہ ضروری ہے جتنا کہ ہم بچے کے کھانے پینے کا انتظام کرتے ہیں دواؤں کا انتظام کرتے ہیں ، اصلاح وتربیت کا معاملہ ایسا ہے کہ آج آپ اپنے بچے کی اصلاح کرلیجئے کل یہ بچہ آپ کے لئے اور آپ کے خاندان کیلئے دنیوی اعتبار سے نہیں آخرت کے اعتبار سے بھی باقیات الصالحات بنے گا لیکن ضروری ہے کہ بچپن سے ہمیشہ دینی تعلیم وتربیت دیں، اس کی باتوں پر ٹوکیں معمولی معمولی باتوں پر اس کی اصلاح کریں، حضرت شیخ زکریا صاحب ؒ مہاجر مدنی علیہ الرحمۃ چھوٹے سے بچے تقریباً تین سال کے، ایک تکیہ لے کر کہنے لگے۔

اباجی یہ تکیہ تو میرا ہے، ابا جی نے ایک طمانچہ مارا کہ بے وقوف ابھی تم سے چلنا نہیں آیا ،بولنا نہیں آیا ، یہ تکیہ میرا ہے ، ابھی تم ہمارے ہو جب تم اٹھارہ بیس سال کے ہوجاؤ گے تو بولنا کہ کون سی چیز تمہاری ہے،یہ ایک مثال ہے چھوٹی چھوٹی چیزوں پر ہم بچے کو ٹوکیں روکیں ، اس کی اصلاح وتربیت کا ایک نرالہ انداز اپنائیں ، کھانا پینا پہننا، اور محبت کرنا اور دوائیں دلانا، یہ تواہل ہنود بھی کرتے ہیں ،غیر مسلم بھی کرتے ہیں دانہ پانی اپنے بچوں کو جانوربھی دیتا ہے ،یہ کوئی بڑی چیز نہیں ہے ضرورت اصلیہ ہے، اصلاح تربیت اور دینی تعلیم بے حد لازمی ہے، آج اس بد ترین ماحول کو بدلنے کی ضرورت ہے ، دعاء فرمائیے کہ اللہ تعالیٰ مجھے اور آپ کو صحیح معنوں میں اولاد کی تربیت اور اصلاح کی توفیق عطا فرمائے اور ان کا حق ادا کرنے کی توفیق نصیب فرمائے، آمین!

متعلقہ خبریں

Back to top button