قومی خبریں

پارلیمنٹ احاطہ میں مذہبی پروگرام دھرنا ، بھوک ہڑتال پر پابندی عائد

نئی دہلی ، 15جولائی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)پارلیمانی بلیٹن میں کہا گیا ہے کہ کوئی بھی رکن پارلیمنٹ ہاؤس کمپلیکس میں دھرنا، ہڑتال، بھوک ہڑتال یا مذہبی پروگرام منعقد نہیں کر سکے گا۔کیا اب پارلیمنٹ کمپلیکس میں دھرنا دینے اور مظاہروں پر پابندی لگا دی گئی ہے؟ کانگریس نے یہ دعویٰ پارلیمنٹ سکریٹریٹ کے ایک بلیٹن کو شیئر کرتے ہوئے کہا ہے۔ اس حکم سے اپوزیشن ناراض ہو گئی ہے۔ کانگریس لیڈر جے رام رمیش نے اس حکم کو شیئر کرتے ہوئے مرکزی حکومت پر طنز کیا ہے۔پارلیمنٹ کے جلد ہی شروع ہونے والے مانسون اجلاس سے قبل یہ دوسرا تنازعہ ہے۔

اس سے قبل لوک سبھا سکریٹریٹ کی طرف سے جاری کردہ فہرست پر تنازعہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ اس میں کئی الفاظ کوغیر پارلیمانی قرار دے کر پابندی لگا دی گئی ہے۔ وہ دونوں ایوان میں استعمال نہیں ہو سکتے۔پارلیمانی بلیٹن میں کہا گیا ہے کہ کوئی بھی رکن پارلیمنٹ ہاؤس کمپلیکس میں دھرنا، ہڑتال، بھوک ہڑتال یا کوئی مذہبی پروگرام منعقد نہیں کر سکے گا۔

اپوزیشن نے پارلیمنٹ احاطہ میں دھرنے کو ممنوع قرار دینے والے بلیٹن کو تغلقی فرمان بتایا

کانگریس اور کئی دیگر اپوزیشن جماعتوں نے جمعہ کو راجیہ سبھا سکریٹریٹ کے ایک بلیٹن کی مخالفت کی جس میں پارلیمنٹ کے احاطے میں دھرنا، ہڑتال اور مذہبی اجتماعات کو ممنوع قرار دیا گیا ہے ۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ غیر پارلیمانی الفاظ کی نئی فہرست سے پارلیمانی مباحثہ پر بلڈوزر چلانے کے بعد اب نیا ’تغلقی فرمان‘سامنے لایا گیا ہے۔

راجیہ سبھا کے رکن جے رام رمیش نے اس آرڈر کی کاپی کے ساتھ ٹویٹ کیا ہے۔ انہوں نے لکھا ‘وشوگورو کا نیا کام- دھرنا منع ہے۔جے رام رمیش کے علاوہ کانگریس ایم پی منیش تیواری نے بھی اس پر ٹویٹ کیا۔ تیواری نے لکھا کہ پریزائیڈنگ آفیسر ارکان کے ساتھ تصادم کی منزل کیوں طے کر رہے ہیں؟ پہلے غیر پارلیمانی الفاظ پر تصادم اور اب یہ بدقسمتی کی بات ہے۔

دوسری جانب این سی پی کے سربراہ شرد پوار ناگپور نے کہا ہے کہ ہمیں اسپیکر کی جانب سے بیان موصول ہوا ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ ایسی کوئی پابندی نہیں لگائی گئی ہے۔ کل دہلی میں تمام سیاسی جماعتوں کے رہنما ایک ساتھ بیٹھ کر بات کریں گے۔

شیوسینا کے رکن پارلیمنٹ سنجے راوت نے غیر پارلیمانی الفاظ کی نئی فہرست کے بارے میں کہا کہ اگر اس ملک میں کوئی یہ کہے کہ کوئی بھی لفظ غیر پارلیمانی ہے تو میں اسے ماننے کو تیار نہیں ہوں۔ یہ ملک مہذب ہے۔ اس ملک کی سب سے بڑی طاقت عاجزی ہے۔ اگر کوئی ماننے کو تیار نہیں تو اب بتانا پڑے گا کہ یہ ملک کیا ہے، اس کی تاریخ کیا ہے۔لوک سبھا میں کانگریس کے لیڈر ادھیر رنجن چودھری نے کہا کہ پارلیمنٹ ہندوستان کی سب سے بڑی پنچایت ہے۔ اگر ہم گاندھی جی، باباصاحب بھیم راؤ امبیڈکر کے قدموں میں بیٹھ کر عدم تشدد کو اپناتے ہوئے، اگر کوئی بات کرنے کی کوشش کریں تو کیا غلط ہے؟ پارلیمنٹ وزیراعظم کی اپنی رہائش گاہ نہیں ہے۔

 راشٹریہ جنتا دل کے ترجمان اور راجیہ سبھا کے رکن منوج جھا نے الزام لگایا کہ غیر پارلیمانی الفاظ کی نئی فہرست کے ذریعے پارلیمانی مباحثہ پر بلڈوز چلانے کے بعداب ایک نیا تغلقی حکم نامہ آیا ہے کہ آپ پارلیمنٹ کے احاطے میں کسی بھی طرح کا دھرنا، مظاہرہ نہیں کر سکتے ہیں۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ آزادی کے 75ویں سال میں یہ کیا ہو رہا ہے؟ ہمسایہ ملک سری لنکا سے سیکھیں، حضور!جے ہند۔ شیوسینا کی رکن پارلیمنٹ پرینکا چترویدی نے اس بلیٹن پر حکومت پر طنز کرتے ہوئے ٹویٹ کیا کہ کیا اب وہ پارلیمنٹ میں پوچھے گئے سوالات کے ساتھ ایسا ہی کریں گے؟ مجھے امید ہے کہ یہ غیر پارلیمانی سوال نہیں ہے۔

  تاہم لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا نے واضح کیا کہ پارلیمانی کارروائی کے دوران کسی بھی لفظ کے استعمال کی ممانعت نہیں ہے، لیکن انہیں سیاق و سباق کی بنیاد پر کارروائی سے ہٹا دیا جاتا ہے ،اور تمام اراکین ایوان کے وقار کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے خیالات کا اظہار کرسکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button