تلنگانہ کی خبریںسرورق

تلنگانہ کے 106 ارکان اسمبلی کروڑ پتی،93 کا بی آر ایس سے تعلق،43 ارکان کی تعلیم پانچویں سے بارہویں کے درمیان

ارکان اسمبلی کی تعلیم کی بات کی جائے تو 43 ارکان اسمبلی (36 فیصد) نے بتایا ہیکہ ان کی تعلیمی قابلیت پانچویں سے بارہویں جماعت کے درمیان ہے

مجلس کے 5 ارکان اسمبلی بھی کروڑ پتی قائدین میں شامل ، 43 ارکان کی تعلیم پانچویں سے بارہویں کے درمیان

حیدرآباد :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)تلنگانہ کے 118 ارکان اسمبلی کی دولت کا جائزہ لیا گیا تو اس بات کا پتہ چلا ہیکہ عوام کی خدمت کے نام پر اسمبلی کیلئے منتخب ہونے والے 106 ارکان اسمبلی کروڑ پتی ہیں۔ان میں 93 ارکان اسمبلی کا تعلق برسراقتدار بی آر ایس پارٹی سے ہے۔ کروڑ پتی ارکان اسمبلی کی فہرست میں 6 خواتین شامل ہیں۔ اسوسی ایشن برائے جمہوری اصلاحات (اے ڈی آر) کی جانب سے شائع کردہ رپورٹ میں یہ بات بتائی گئی۔ رپورٹ کی اشاعت میں تلنگانہ الیکشن واچ کا بھی حصہ ہے۔ اے ڈی آر اور تلنگانہ الیکشن واچ کی ریاست کے 119 کے منجملہ 118 ارکان اسمبلی کی دولت، ان کے مجرمانہ پس منظر اور دیگر امور کا جائزہ لیا گیا۔ تلنگانہ اسمبلی میں ایک حلقہ سکندرآباد کنٹونمنٹ خالی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہیکہ 2018ء کے اسمبلی انتخابات میں مختلف امیدواروں نے الیکشن کمیشن کو جو حلف نامے داخل کئے تھے ان کی بنیاد پر دولت اور مجرمانہ پس منظر کا جائزہ لیا گیا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہیکہ موجودہ 118 کے منجملہ 106ارکان اسمبلی (90 فیصد) کروڑپتی ہیں۔ بی آر ایس کے 101 ارکان اسمبلی میں 93 (92 فیصد) ارکان کروڑپتی ہیں۔ مجلس کے 7 کے منجملہ 5 ارکان اسمبلی (71 فیصد) کروڑپتی ہیں جبکہ کانگریس کے 6 ارکان اسمبلی میں 4 (67 فیصد) کروڑپتی ہیں۔ بی جے پی کے دو ارکان اسمبلی اور دو آزاد ارکان نے اپنے اثاثہ جات ایک کروڑ سے زائد بتائے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہیکہ فی کس رکن اسمبلی کے اوسط اثاثہ جات کی مالیت 13.57 کروڑ روپئے ہے۔

رپورٹ میں واضح کیا گیا ہیکہ بی آر ایس ارکان اسمبلی کی اوسط دولت 14.11 کروڑ کی ہے جبکہ مجلس کے ارکان اسمبلی کی اوسط دولت 10.84 کروڑ ہے۔ کانگریس کے 6 ارکان اسمبلی کی فی کس دولت اوسطاً 4.22 کروڑ کی ہے۔ ارکان اسمبلی کی تعلیم کی بات کی جائے تو 43 ارکان اسمبلی (36 فیصد) نے بتایا ہیکہ ان کی تعلیمی قابلیت پانچویں سے بارہویں جماعت کے درمیان ہے جبکہ 69 ارکان اسمبلی (58 فیصد) نے بتایا کہ ان کی تعلیم گریجویشن یا اس سے زیادہ ہے۔ 5 ارکان اسمبلی ڈپلومہ ہولڈر ہیں جبکہ ایک رکن اسمبلی کا کہنا ہیکہ وہ پڑھا لکھا ہے۔ رپورٹ کے بموجب 43 ارکان اسمبلی (36 فیصد) کا کہنا ہے ان کی عمریں 30 سے 50 سال کے درمیان ہے جبکہ 75 ارکان اسمبلی (64 فیصد) کا کہنا ہیکہ ان کی عمریں 51 سے 80 سال کے درمیان ہے۔ موجودہ 118 ارکان اسمبلی میں صرف 6 ارکان (5 فیصد) ہی خواتین ہیں۔ تلنگانہ میں اسمبلی انتخابات کیلئے شیڈول جاری کردیا گیا ہے اور یہاں 30 نومبر کو ووٹ ڈالے جائیں گے۔ 3 ڈسمبر کو نتائج کا اعلان کیا جائے گا۔ ریاست میں بی آر ایس چیف منسٹر کے سی آر کی قیادت میں لگاتار تیسری کامیابی کیلئے کوشاں ہے تو کانگریس اقتدار پر واپسی چاہتی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button