بین ریاستی خبریں

ریواڑی گینگ ریپ کیس: تینوں مجرمان کوسنائی گئی 20 سال کی سزا

چنڈی گڑھ،28اکتوبر :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)ریواڑی گینگ ریپ کیس میں عدالت نے جمعہ کو تینوں ملزمان کو 20 سال قید کی سزا سنائی ہے۔ اس کے ساتھ ہی تینوں ملزمان کو 20000 روپے جرمانہ ادا کرنے کو کہا گیا ہے۔ جرمانے کی رقم ادا نہ کرنے کی صورت میں انہیں مزید ایک سال قید کی سزا ملے گی ۔ نیز عدالت نے حکم دیا کہ ڈسٹرکٹ لیگل اتھارٹی متاثرہ کو پانچ لاکھ روپے کی مالی مدد فراہم کرے۔

اس واقعہ کا افسوسناک پہلو یہ ہے کہ تینوں ملزمان نے آٹھ گھنٹے تک متأثرہ کے ساتھ عصمت دری کی تھی، پھر متأثرہ کو چھوڑ کر فرار ہو گئے تھے۔

ایڈیشنل سیشن جج مونا سنگھ کی عدالت نے جمعرات کو ضلع نارنول کے کنینا میں اجتماعی عصمت دری معاملہ میں تین اہم ملزمان منیش، فوجی اہلکار پنکج اورنشو کو مجرم قرار پایا گیا۔  

خیال رہے کہ 12 ستمبر 2018 کو متاثرہ لڑکی اپنے والد کے ساتھ اسکول بس میں کوچنگ کے لیے آئی تھی۔ کوچنگ کلاس سے واپس آتے ہوئے تینوں مجرموں نے متأثرہ کے ساتھ درندگی انجام دیا تھا۔کوچنگ سینٹر سے واپس آتے ہوئے راستے میں پنکج اور منیش سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے متاثرہ کو پانی میں نشہ آور چیز پلا کر بے ہوش کردیا اور بعد میں اسے گاڑی کے ذریعہ کنویں پر لے گئے۔

جہاں پنکج، منیش اور نشو نے آٹھ گھنٹے تک گینگ ریپ کیا۔ متاثرہ کی حالت خراب ہونے پر ان لوگوں نے گاؤں کے ہی ایک ڈاکٹر سنجیو کو موقع پر بلایا۔ ڈاکٹر متاثرہ کو ابتدائی طبی امداد دینے کے بعد وہاں سے چلا گیا۔ اس کے بعد ملزم اسے چھوڑ کر فرار ہو گئے۔

اس معاملہ میں ٹیوب ویل کے مالک دین دیال پر دفعہ 118 اور 120 بی لگائی گئی تھی۔ منیش اور پنکج کو پناہ دینے پر سنجیو پر دفعہ 118، نوین پر 202 اور ابھیشیک اور منجیت پر 216 کے تحت الزامات عائد کیے گئے تھے۔معاملہ ہائی لائٹ ہونے کے بعد پولیس نے کارروائی تیز کردی۔

سی ایم منوہر لال نے خود متاثرہ کے اہل خانہ سے ملاقات کرکے کارروائی کا یقین دلایا تھا۔ایڈوکیٹ کرن سنگھ یادو اور ایڈوکیٹ سبھاش یادو نے بتایا کہ مذکورہ کیس میں 33 گواہوں کو عدالت میں پیش کیا گیا۔ اس کے علاوہ میڈیکل رپورٹ میں تینوں مرکزی ملزمان کی سیمن میچنگ پائی گئی۔

جج نے میڈیکل رپورٹ اور گواہوں کے بنیادپر تینوں ملزمان کو مجرم قرار دیا۔ باقی پانچ دیگر ملزمین دین دیال، سنجیو، نوین، ابھیشیک کو شک کے فائدہ کے تحت سزا سنائی گئی ، منجیت بری ہو گیاہے، جس پر کوئی الزام نہیں تھا ۔

متعلقہ خبریں

Back to top button