آجی کار کیس: متاثرہ کے والد کا بڑا بیان انصاف کے لئے ہم بھیک نہیں مانگیں گے بلکہ لڑیں گے
کولکاتہ، 17جنوری :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)کولکاتہ کے بدنام زمانہ آر جی کار عصمت دری اور قتل کیس کا فیصلہ سیالدہ عدالت سے ہفتہ کو متوقع ہے۔ اس سے پہلے مقتول کے والد کا بڑا بیان سامنے آیا ہے۔ متاثرہ کے والد کا کہنا تھا کہ وہ انصاف کے حصول کے لیے پانچ سال انتظار کرنے کو تیار ہیں۔ ہم بھیک نہیں مانگیں گے بلکہ لڑیں گے اور ضرورت پڑی تو انصاف چھینیں گے۔والد نے کہا کہ پانچ ماہ سے کوئی صحیح تفتیش نہیں ہوئی۔ تفتیش صرف پہلے تین دن تک ہوئی اور اس کے بعد کچھ نہیں ہوا۔ ہم نے کبھی سی بی آئی انکوائری کا مطالبہ نہیں کیا لیکن عدالت نے سی بی آئی انکوائری کا حکم دیا۔
گزشتہ سال 9 اگست کو کولکتہ کے آر جی کار میڈیکل کالج اور اسپتال میں 31 سالہ جونیئر ڈاکٹر کی عصمت دری اور قتل کر دیا گیا تھا۔ اس واقعے کے بعد ملک بھر میں ہنگامہ آرائی اور مظاہرے ہوئے۔ اس واقعہ پر اگست سے احتجاج کرنے والے جونیئر ڈاکٹروں نے رائے کو زیادہ سے زیادہ سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ لیکن بہت سے لوگوں کا دعویٰ ہے کہ اس حوالے سے ایک سوال ابھی باقی ہے۔
جونیئر ڈاکٹر دیباشیش ہلدار نے کہا کہ ہمارے پاس ڈی این اے اور سنٹرل فرانزک سائنس لیبارٹری (سی ایف ایس ایل) کی رپورٹ سے متعلق سوالات ہوسکتے ہیں۔ مقصد کیا تھا؟ اس میں کون کون ملوث تھے؟ کیا اکیلے جرم کرنا ممکن ہے؟ ثبوتوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کیوں کی گئی؟ کس نے یہ افواہ پھیلانے کی کوشش کی کہ مقتول نے خودکشی کر لی ہے؟ ان سوالات کے جوابات ملنے چاہئیں۔
ہلدار نے کہا کہ سنجے رائے کو سزائے موت دی جانی چاہیے،ہم چاہتے ہیں کہ اس میں ملوث دیگر تمام افراد کو پکڑا جائے، ورنہ انصاف نہیں ہوگا۔ ہم سی بی آئی پر اپنا اعتماد برقرار رکھنا چاہتے تھے لیکن جس طرح انہوں نے ثبوتوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنے کے الزام میں گرفتار افراد کے خلاف چارج شیٹ تیار نہیں کی اس کا جواب سی بی آئی نے نہیں دیا یا تو وہ نااہل ہیں یا اس سب کے پیچھے کوئی بہت طاقتور ہے۔تاہم، بی جے پی لیڈر اگنی مترا پال نے دعویٰ کیا کہ ملزم سنجے رائے کے علاوہ اس کیس میں طاقتور لوگ ملوث تھے۔ سی بی آئی کے مطابق جس طریقے سے لاش مبینہ طور پر ملی ہے اور جس طریقے سے اسے مبینہ طور پر ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچایا گیا ہے وہ کسی ایک شخص کے لیے ممکن نہیں ہے۔
اس میں اور بھی بہت سے لوگ ملوث ہیں اور انہیں انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔ ہمیں ممتا بنرجی، سی آئی ڈی اور ریاستی پولیس سے کوئی امید نہیں ہے،سی بی آئی کو اپنا کام کرنا چاہیے۔ ہم ایسے جرم کے لیے سزائے موت چاہتے ہیں، کچھ کم نہیں۔
31 سالہ جونیئر ڈاکٹر کی لاش آر جی کار ہسپتال کے سیمینار روم سے ملی تھی۔ جرم کے ایک دن بعد، شہری رضاکار سنجے رائے کو گرفتار کیا گیا اور اس پر عصمت دری اور قتل کا الزام لگایا گیا۔ 11 نومبر 2024 کو شروع ہونے والی اس تفتیش کو مکمل ہونے میں 59 دن لگے۔ سی بی آئی نے 13 اگست کو کیس کی تفتیش اپنے ہاتھ میں لے لی اور 4 دسمبر کو ملزمین کے خلاف الزامات عائد کیے گئے۔ اس دوران سی بی آئی نے تلہ پولیس اسٹیشن کے انچارج ابھیجیت منڈل اور آر جی کار کے سابق پرنسپل سندیپ گھوش کو گرفتار کرلیا۔



