نئی دہلی،09؍جولائی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے معاملے میں فیصلہ سناتے ہوئے ملک میں یکساں سول کوڈ کی ضرورت کو بیان کیا ہے۔ جسٹس پرتبھا ایم سنگھ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ آج کا ہندوستان مذہب، ذات، برادری سے بالا تر ہو چکا ہے۔ جدید #ہندوستان میں #مذہب، ذات پات کی رکاوٹیں آہستہ آہستہ ختم ہورہی ہیں۔
اسی تبدیلی کی وجہ سے شادی اور طلاق میں پریشانی بھی آرہی ہے۔ آج کی نوجوان نسل کو ان مسائل سے لڑنے کی ضرورت نہیں ہے لہٰذا #یکساں #سول #کوڈ کو ملک میں نافذ کیا جانا چاہئے۔ دراصل دہلی ہائی کورٹ کے جسٹس پرتبھا ایم سنگھ نے طلاق کے معاملے میں یہ بات کہی ۔ دراصل عدالت کے سامنے یہ سوال پیدا ہوا کہ آیا طلاق کا فیصلہ ہندو میرج ایکٹ کے مطابق ہونا چاہئے یا پھرمینا درج فہرست ذاتی کے ایکٹ کے مطابق ۔ شوہر ہندو میرج ایکٹ کے مطابق طلاق چاہتا تھا، جبکہ بیوی نے کہا کہ وہ مینا قبیلے سے ہیں لہٰذا ہندو میرج ایکٹ ان پر نافذنہیں ہوتا ہے۔
اسی وجہ سے اس کے شوہر کی طرف سے دائر فیملی عدالت میں طلاق کی درخواست کو خارج کیا جانا چاہئے۔ شوہر نے بیوی کی اسی دلیل کے خلاف ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی تھی۔ہائی کورٹ نے شوہر کی اپیل کو تسلیم کرتے ہوئے یکساں سول کوڈ کو نافذ کرنے کی ضرورت محسوس کی۔ ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں یہ بھی کہا ہے کہ یہ فیصلہ وزارت قانون کو بھیجا جانا چاہئے تاکہ وزارت قانون اس پر غور کرسکے۔



