حاملہ خواتین کیلئے خطرہ رنگ گورا کرنے والی کریموں میں پارہ
رنگ گورا کرنے والی کریمیں جلد کے لئے مضر ہیں۔
ایک طرف جہاں خواتین میں رنگ گورا کرنے والی کریموں کا استعمال بڑھ رہا ہے، وہیں ایک حالیہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ کئی مقامی اور بین الاقوامی کریموں میں پارے (mercury) کی زیادہ مقدار کی موجودگی کی وجہ سے گردوں کے مسائل اور جلد کے کینسر کے خطرات بڑھ رہے ہیں۔حال ہی میں رنگ گورا کرنے والی 59 کریموں کا لیب ٹیسٹ کیا گیا، جس میں سے 57 میں پارے کی مقدار ون پی پی ایم سے زیادہ تھی اور اس میں 14 بین الاقوامی برانڈز جبکہ 41 مقامی برانڈز شامل ہیں۔ رنگ گورا کرنے والی کریمیں جلد کے لئے مضر ہیں۔ مختلف صابنوں کے ٹیسٹ بھی کئے گئے جن میں 14 میں سے چار صابن جلد کے لئے خطرہ ہیں۔ عوام کو اس احساس کمتری سے نکالنا ہو گا کہ اگر وہ گورے نہیں تو وہ زندگی میں آگے نہیں بڑھ سکتے۔
اس حوالے سے ایک گائنالوجسٹ ڈاکٹر نے بتایا کہ حاملہ خواتین کے جسم میں پارے کی زیادہ مقدار، چاہے وہ بیوٹی کریموں سے ہو یا فارمی مچھلی کھانے سے، دونوں صورتوں میں پیدا ہونے والے بچوں میں معذوری کا سبب بن سکتی ہے اور پیدائش کے وقت کے بچے کا دماغ یا گردے متاثر ہو سکتے ہیں، اس لئے حمل کے دوران رنگ گورا کرنیوالی کریموں یا اسکن وائٹننگ ٹریٹمنٹ سے پرہیز کرنا چاہیے۔
مینا ماٹا کیا ہے؟
مینا ماٹا ایک جلدی بیماری ہے جو پارے کے زہریلے اثر سے پھیلتی ہے۔ اس بیماری کا نام جاپان کے شہر مینا ماٹا کینام پر رکھا گیا کیونکہ وہاں سب سے پہلے پارے کے زہر سے لوگ متاثر ہوئے اور بیماری میں مبتلا ہوئے۔مینا ماٹا کی علامات یہ ہیں کہ جسم کے اعضا پر کنٹرول نہیں رہتا، ہاتھوں اور پاؤں کی جلد سن ہو سکتی ہے، نظر کمزور ہوسکتی ہے اور اس کے علاوہ گونگا اور بہرا پن بھی ہوسکتا ہے۔ پارے کا زہر جسم میں اگر خطرناک حد تک بڑھ جائے تو یہ جسم کے مختلف خلیوں کو ناکارہ کر دیتا ہے جس کا علاج بھی مشکل اور بعض اوقات ناممکن ہو جاتا ہے۔ میناماٹا کے نام سے کنونشن بھی بنایا گیا، جس پر اکتوبر 2013 میں جنیوا میں دستخط ہوئے اور جس کا مقصد دنیا کو پارے کے مضر اثرات سے پاک کرکے صحت مند بنانا ہے۔
کیا پارہ صرف کاسمیٹکس میں استعمال ہو رہا ہے؟
پارہ ایک کیمیائی عنصر ہے جس کی علامت ایچ جی اور جوہری نمبر 80 ہے۔دنیا بھر میں پارے کا استعمال تھرمامیٹرز، بیرومیٹرز، سپیگمو مینو میٹرز، بجلی کے بٹن اور دیگر سائنسی آلات میں کیا جاتا ہے جبکہ آج کل استعمال ہونے والے بلبوں اور ٹیوب لائٹس میں بھی اس کا استعمال ہوتا ہے۔



