لالو بیڈمنٹن کھیل رہے تھے، انہیں ضمانت دینا غلط تھا:سی بی آئی
چارہ گھوٹالے میں آر جے ڈی سپریمو لالو پرساد یادو کی ضمانت منسوخی پر
نئی دہلی، 25اگست :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) چارہ گھوٹالے میں آر جے ڈی سپریمو لالو پرساد یادو کی ضمانت منسوخی پر جمعہ کو سپریم کورٹ میں سماعت ہوئی۔ لالو یادو کے وکیل کپل سبل نے عدالت میں کڈنی ٹرانس پلانٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سی بی آئی لالو کو دوبارہ جیل بھیجنا چاہتی ہے۔ اس کی مخالفت کرتے ہوئے سی بی آئی کے وکیل نے کہا کہ لالو یادو بیڈمنٹن کھیل رہے ہیں۔ ان کی ضمانت کا فیصلہ بھی غلط تھا۔ میں مقدمے کے دوران یہ ثابت کروں گا۔اب اس معاملے کی سماعت 17 اکتوبر کو ہوگی۔
18 اگست کو سی بی آئی نے چارہ گھوٹالہ معاملے میں جھارکھنڈ ہائی کورٹ کے فیصلے کیخلاف سپریم کورٹ میں عرضی داخل کی تھی، جسے عدالت نے قبول کر لیا۔سی بی آئی نے عرضی میں کہا ہے کہ جھارکھنڈ ہائی کورٹ کے ضمانتی حکم کی بنیاد غلط ہے۔ لالو یادو نے اپنی سزا کے مطابق جیل میں وقت نہیں گزارا ہے۔ سماعت سے پہلے وزیر تیج پرتاپ یادو نے کہا – ہمیں عدالت پر بھروسہ ہے۔اس معاملے پر سی ایم نتیش کمار نے کہا ہے کہ غریبوں کو پریشان کیا جا رہا ہے، سب جانتے ہیں۔ سی بی آئی جان بوجھ کر لالو یادو کو پریشان کر رہی ہے۔ مرکز کی طرف سے ہر ایک کو پریشان کیا جا رہا ہے۔ساتھ ہی آئی آر سی ٹی سی کے معاملے میں زمین کے بدلے ریلوے میں سرکاری نوکری دینے کے الزام پر آج راؤس ایونیو کورٹ میں بحث ہوگی۔
اس میں لالو یادو کے علاوہ سی بی آئی کی جانب سے بہار کی سابق وزیر اعلیٰ رابڑی دیوی، راجیہ سبھا کی رکن میسا بھارتی اور دیگر کے خلاف دلائل دیے جائیں گے۔ مقدمے میں الزامات طے کرنے کے معاملے میں بحث کی جائے گی۔لالو نے ضمانت منسوخی کی مخالفت کی لالو پرساد یادو نے چارہ گھوٹالہ معاملے میں سپریم کورٹ میں سی بی آئی کی عرضی کی مخالفت کی ہے۔ سپریم کورٹ میں داخل کیے گئے جواب میں لالو پرساد نے اپنی ضمانت منسوخ کرنے کے لیے سی بی آئی کی عرضی کو خارج کرنے کو کہا ہے۔سی بی آئی کی عرضی کے جواب میں لالو پرساد کا کہنا ہے کہ سزا معطل کرنے کے ہائی کورٹ کے حکم کو محض اس بنیاد پر چیلنج نہیں کیا جا سکتا کہ سی بی آئی اس فیصلے سے مطمئن نہیں ہے۔ ہائی کورٹ کے فیصلے میں مداخلت کرنے کی ضرورت نہیں ہے، کیونکہ ہائی کورٹ کا فیصلہ عام اصولوں اور یکساں قوانین پر مبنی ہے۔ لالو پرساد نے عدالت سے یہ بھی کہا کہ خراب صحت اور بڑھاپے کی وجہ سے انہیں حراست میں رکھنے سے سی بی آئی کا کوئی مقصد پورا نہیں ہوگا۔



