روڈ ٹرانسپورٹ وزارت کا نیا حکم فاسٹیگ کا کے وائی سی جلد کرالیں، ورنہ جرمانہ دینا پڑسکتا ہے
ایسے فاسٹیگ ہولڈرز کو اپنے بینک کے پاس جا کر اپنا KYC اپ ڈیٹ کرانا ہوگا۔
نئی دہلی، 15جنوری :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) نیشنل ہائی وے اتھارٹی آف انڈیا (NHAI) نے ’ایک گاڑی، ایک فاسٹیگ‘ پہل شروع کی ہے۔ اس اقدام کا مقصد ایک سے زیادہ گاڑیوں کے لئے ایک ہی FASTag کے استعمال یا ایک خاص گاڑی کے لئے متعدد FASTags کو جوڑنے کو روکنا ہے۔ فاسٹیگ کے لیے مقررہ وقت سے پہلے KYC کروانا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ 31 جنوری 2024 کے بعد نامکمل KYC کے ساتھ فاسٹیگ کو بینکوں کے ذریعے غیر فعال/بلیک لسٹ کر دیا جائے گا اور ٹول پہنچنے پر آپ کو جرمانہ ادا کرنا پڑے گا۔روڈ ٹرانسپورٹ کی وزارت میں پی آئی بی کی اے ڈی جی جے پی مٹو سنگھ کا کہنا ہے کہ پرانے فاسٹیگ KYC کرانے کے دائرے میں آئیں گے۔کیونکہ پچھلے حالیہ کچھ سالوں میں لئے گئے فاسٹیگ آدھار سے منسلک ہیں اور ان کا KYC بھی ہو چکا ہے۔ پرانے فاسٹیگ میں اس قسم کی پریشانی کا سامنا ہے، جسے بلیک لسٹ کر دیا جائے گا۔
ایسے فاسٹیگ ہولڈرز کو اپنے بینک کے پاس جا کر اپنا KYC اپ ڈیٹ کرانا ہوگا۔ مثال کے طور پر اگر کسی نے پے ٹی ایم سے فاسٹیگ لیا ہے، تو اس کو پے ٹی ایم میں جاکر اپ ڈیٹ کرانا ہوگا،اگر کسی نے بینک سے لیا ہے، تو اسے وہاں جا کر اپ ڈیٹ کرانا ہوگا۔وہیں اس سلسلہ میں ٹرانسپورٹ ایکسپرٹ انیل چھیکارہ کا کہنا ہے کہ کچھ ڈرائیور اس کا غلط استعمال کر رہے ہیں۔ وہ چھوٹی گاڑی کے فاسٹیگ پر کمرشیل گاڑی چلا رہے ہیں۔ مثال کے طور پر چھوٹی گاڑی کا ٹول 100 روپے ہوتا ہے اور کمرشیل گاڑی کے لئے 500 روپے ہوتا ہے۔
فاسٹیگ میں چھوٹی گاڑی کا نمبر رجسٹرڈ ہے، ایسے میں کارڈ ریڈر کمرشیل گاڑی کو چھوٹی گاڑی کے طور پر پڑھے گا اور صرف 100 روپے کا ٹول کاٹا جائے گا۔ اس طرح ڈرائیور آمدنی کا نقصان کررہے ہیں، اس لئے ایک گاڑی میں ایک فاسٹیگ لگانا لازمی ہوگا۔FASTagاستعمال کرنے والوں کو بھی‘ایک گاڑی، ایک FASTag’کی تعمیل کرنی ہوگی اور اپنے متعلقہ بینکوں کے ذریعے پہلے جاری کیے گئے تمام FASTags کو چھوڑنا ہوگا۔ صرف تازہ ترین FASTag اکاؤنٹ ہی فعال رہے گا کیونکہ پچھلے ٹیگز کو 31 جنوری 2024 کے بعد غیر فعال/بلیک لسٹ کر دیا جائے گا۔



