پرگتی بھون کی تعمیر پر شاہ خرچیاں، 60 کروڑ سے آغاز لیکن 200 کروڑ خرچ
اٹلی سے 25 کروڑ کا فرنیچر،بیڈمنٹن کورٹ کیلئے دو کروڑ، کتوں کے شیڈ کی 12 لاکھ روپئے سے تعمیر
حیدرآباد :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) اقتدار کسی کیلئے دائمی نہیں ہوتا اور اگر کوئی پارٹی یا حکمراں اقتدار کو مستقل تصور کریں تو اس کی بھول بعد میں شرمندگی کا باعث بن سکتی ہے۔ علحدہ تلنگانہ کی جدوجہد میں اہم رول ادا کرنے والے کے چندر شیکھر راؤ کو عوام نے ریاست کی تشکیل کے بعد 2014 ء میں اقتدار عطا کیا۔ تلنگانہ عوام کے جذبات اور امنگوں کی تکمیل کے بجائے کے سی آر نے 10 برسوں میں اپنے آرام و آسائش میں اضافہ پر توجہ دی۔ اب جبکہ 10 برس بعد بی آر ایس اقتدار سے محروم ہوچکی ہے، گزشتہ 10 برسوں کے ایسے کام منظر عام پر آرہے ہیں جو عوام کے فائدہ سے زیادہ قائدین کے مفاد میں کئے گئے تھے۔ بی آر ایس حکومت کے کئی اسکامس منظر عام پر آرہے ہیں۔ ریونت ریڈی حکومت نے ہر محکمہ کی کارکردگی اور سابق حکومت کے فیصلوں کا جائزہ لینا شروع کردیا ہے۔
چیف منسٹر کی سرکاری رہائش گاہ پرگتی بھون کے بارے میں کئی سنسنی خیز انکشافات سامنے آئے ہیں جن سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ سابق حکومت نے چیف منسٹر کی سرکاری رہائش گاہ نہیں بلکہ ایک مستقل محل تعمیر کیا تھا۔ پرگتی بھون کی تعمیر اور اس میں مختلف سہولتوں پر انکشافات سے اندازہ ہوتا ہے کہ ابتداء میں 60 کروڑ کے مصارف کا تخمینہ تیار کیا گیا تھا لیکن پرگتی بھون کی تکمیل تک 200 کروڑ خرچ کئے گئے ۔ بیگم پیٹ میں کانگریس حکومت میں ڈاکٹر راج شیکھر ریڈی نے چیف منسٹر کی سرکاری رہائش گاہ تعمیر کی تھی لیکن کے سی آر نے اطراف کی سرکاری عمارتوں اور اراضی کو حاصل کرکے عالیشان پرگتی بھون تعمیر کیا۔ چیف منسٹر اور خاندان کے آرام و آسائش کیلئے کوئی کسر باقی نہیں رکھی گئی ۔ انسان تو انسان ہیں لیکن سابق حکومت نے پرگتی بھون میں کتوں کی رہائش کیلئے جو شیڈ تعمیر کیا، اس پر 12 لاکھ روپئے خرچ کئے گئے۔ پرگتی بھون کے احاطہ میں بیڈمنٹن کورٹ کی تعمیر پر دو کروڑ روپئے خرچ کئے گئے جبکہ مینٹننس پر جملہ 2.5 کروڑ کا خرچ آیا ہے ۔
پرگتی بھون کیلئے اٹلی سے فرنیچر منگوایا گیا جس پر 25 کروڑ روپئے خرچ کئے گئے ۔ عہدیداروںکا کہنا ہے کہ بی آر ایس دور میں پرگتی بھون سے متعلق کوئی بھی فائل اگر صبح پہنچتی تو شام تک اسے کلیئرنس مل جاتا۔ پرگتی بھون کے اخراجات سے متعلق فائل کی کسی وضاحت کے بغیر ہی کلیئرنس کی اطلاعات ہیں۔ فرنیچر کیلئے ٹنڈر طلب کئے بغیر اٹلی سے 25 کروڑ کا فرنیچر درآمد کیا گیا۔ آر اینڈ بی محکمہ سے فرنیچر کی رقم ادا کرنے سے انکار پر اس وقت کے چیف سکریٹری نے دباؤ بناکر رقومات جاری کرنے مجبور کیا تھا۔ بعد میں رقم جاری کرنے سے انکار کرنے والے عہدیدار کا تبادلہ کردیا گیا۔ کانگریس حکومت نے سابق حکومت کی شاہ خرچیوں کی تفصیلات اکھٹا کرتے ہوئے عوام کیلئے جاری کرنے کی تیاری کرلی ہے۔ عہدیداروں کا کہنا ہے کہ پرگتی بھون کی 24 گھنٹے پولیس کی جانب سے سخت نگرانی کے باوجود سیکوریٹی کے انتہائی تربیت یافتہ کتوں کو متعین کیا گیا تھا جن کے شیڈ کی تعمیر پر 12 لاکھ کا خرچ باعث حیرت ہے



