آر ایس ایس نے دی ذات پر مبنی مردم شماری کی اجازت، کانگریس کا سرکار سے سوال
کیا آرایس ایس کے پاس ذات پر مبنی مردم شماری پر پابندی کے اختیارات ہیں۔
نئی دہلی ،3ستمبر :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)کانگریس لیڈرجے رام رمیش نے منگل کو ایکس (ٹوئٹر) پرایک پوسٹ شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ذات پرمبنی مردم شماری سے متعلق آرایس ایس کی علمی گفتگو سے کچھ بنیادی سوالات اٹھتے ہیں۔ کیا آرایس ایس کے پاس ذات پر مبنی مردم شماری پر پابندی کے اختیارات ہیں۔
ذات پر مبنی مردم شماری کے لئے اجازت دینے والا وہ کون ہے، آرایس ایس کا کیا مطلب ہے، جب وہ کہتا ہے کہ انتخابی تشہیر کے لئے ذات پرمبنی مردم شماری نہیں کیا جانا چاہئے۔ کیا یہ جج یا امپائربننا ہے؟ آرایس ایس نے دلتوں، آدیواسیوں اور اوبی سی کے لئے ریزرویشن پر 50 فیصد کے دائرہ کو ہٹانے کے لئے آئینی ترمیم کی ضرورت پرپُراسرار خاموشی کیوں اختیار کررکھی ہے؟انہوں نے مزید کہا، ’’اب جب آرایس ایس نے ہری جھنڈی دکھا دی ہے تب کیا نان بایولوجیکل وزیراعظم کانگریس کی ایک اور گارنٹی کو ہائی جیک کریں گے اورذات پر مبنی مردم شماری کرائیں گے؟‘دراصل، آرایس ایس نے کہا ہے کہ ذات پرمبنی مردم شماری ایک حساس موضوع ہے اور اس پر سیاست نہیں ہونی چاہئے۔
آرایس ایس کا یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے، جب اپوزیشن مسلسل ذات پر مبنی مردم شماری کا مطالبہ کررہا ہے اور بی جے پی کو پسماندہ طبقے اور دلت مخالف بتانے کا نیریٹیو سیٹ کررہا ہے۔حکومت میں بی جے پی کی اتحادی جنتا دل یونائیٹیڈ (جے ڈی یو)، ایل جے پی (رام ولاس) اپنا دل (انوپریا پٹیل) اور سہیل دیوبھارتیہ سماج پارٹی بھی ذات پرمبنی مردم شماری کے حق میں ہیں۔ ایسے میں سوال یہ ہے کہ اب آرایس ایس کے پیغام کے بعد بی جے پی کا رخ کیا ہوگا۔ حالانکہ کئی مواقع پر بی جے پی بھی اپوزیشن پر ذات پات کی مردم شماری کے بہانے سماج کو تقسیم کرنے کا الزام لگاتی رہی ہے۔



