آر ایس ایس ہتک عزتی کا معاملہ، راہل گاندھی کا بامبے ہائی کورٹ سے رجوع
راہل گاندھی نے مہنگی بجلی کیلئے اڈانی کو ذمہ دار ٹھہرایا
ممبئی،18اکتوبر :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) کانگریس کے رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی نے بامبے ہائی کورٹ میں درخواست کی ہے کہ بنگلورو میں مقیم صحافی گوری لنکیش کے قتل سے آر ایس ایس کو جوڑنے کے معاملہ میں ان کیخلاف دائر 2017 کے ہتک عزتی کے مقدمہ کو منسوخ کیا جائے۔ جسٹس سارنگ کوتوال کے سامنے آنے والے اس کیس کی سماعت 5 دسمبر تک ملتوی کر دی گئی۔راہل نے اپنے وکیل کشال مور کے ذریعے بوریولی مجسٹریٹ کورٹ کے 2019 کے حکم کو چیلنج کیا ہے جس میں آر ایس ایس کے نظریاتی اور وکیل دھرتیمان جوشی کی طرف سے دائر نجی ہتک عزت کی شکایت کو خارج کرنے سے انکار کیا گیا تھا۔راہل گاندھی نے کہا ہے کہ انہیں سی پی آئی-ایم کے جنرل سکریٹری سیتارام یچوری کے ساتھ اس معاملے میں غلط طریقہ سے ملزم بنایا گیا ہے، جنہوں نے کرناٹک میں 5 ستمبر 2017 کو گوری لنکیش کے قتل کے بعد مبینہ طور پر ایک مختلف جگہ اور وقت پر علیحدہ بیان دیا تھا۔اس نے دلیل دی ہے کہ جوشی کی شکایت سی آر پی سی کے سیکشن 218 کی خلاف ورزی کرتی ہے جو مختلف جرائم کے لیے الگ الگ چارجز کا تعین کرتی ہے اور مشترکہ ٹرائل کا تصور نامعلوم ہے، قانون کے تحت لازمی یا منظور شدہ نہیں ہے۔
گوری لنکیش کے قتل کے بعد جوشی نے راہل گاندھی کے خلاف 6 ستمبر 2017 کو شکایت درج کرائی تھی۔ انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ ٹی وی پر خبریں دیکھتے ہوئے انہوں نے کانگریس کے ایک لیڈر کو پارلیمنٹ کے باہر یہ بات کرتے ہوئے سنا کہ جو بھی بی جے پی آر ایس ایس کے نظریے کے خلاف آواز اٹھاتا ہے اس پر دباؤ ڈالا جاتا ہے، حملہ کیا جاتا ہے یا مار دیا جاتا ہے۔اسی طرح جوشی نے دعویٰ کیا کہ یچوری نے مبینہ طور پر میڈیا سے بات کی تھی کہ صحافی گوری لنکیش کے قتل کے لیے آر ایس ایس ذمہ دار ہے۔ جوشی نے دلیل دی کہ یہ بیانات بغیر کسی ثبوت کے دیے گئے ہیں تاکہ عام لوگوں کی نظروں میں آر ایس ایس کی شبیہ کو داغدار کیا جا سکے۔شکایت کے بعد بوریولی مجسٹریٹ کی عدالت نے راہل گاندھی اور سیتارام یچوری کو فروری 2019 میں سمن جاری کیا۔
دونوں جولائی 2019 میں عدالت میں پیش ہوئے اور ضمانت کی درخواست کی، لیکن بعد میں دونوں نے مختلف بنیادوں کا حوالہ دیتے ہوئے شکایت کو منسوخ کرنے کے لیے درخواستیں دائر کیں۔نومبر 2019 میں بوریولی کے مجسٹریٹ نے گاندھی اور یچوری کی طرف سے دائر کی گئی دونوں درخواستوں کو مسترد کر دیا تھا۔ راہل گاندھی اس فیصلے کے خلاف ہائی کورٹ سے رجوع کیا ہے۔ راہل نے عدالت سے نچلی عدالت کے حکم کو کالعدم قرار دینے، ان کیخلاف کارروائی کو منسوخ کرنے اور شکایت کو خارج کرنے کی درخواست کی ہے۔
راہل گاندھی نے مہنگی بجلی کیلئے اڈانی کو ذمہ دار ٹھہرایا
نئی دہلی،18اکتوبر:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے آج ایک بار پھر اڈانی گروپ کے مالک گوتم اڈانی کو تنقید کا نشانہ بنایا اور ان پر شدید الزام عائد کیا۔انھوں نے آج ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ گوتم اڈانی نے کوئلہ کے کاروبار میں بہت بڑی بے ضابطگی کی ہے، انھوں نے اس میں 32 ہزار کروڑ روپے کا گھوٹالہ کیا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ بجلی مہنگی ہوتی جا رہی ہے اور لوگوں کا بجلی بل بڑھتا جا رہا ہے۔ راہل گاندھی کا کہنا ہے کہ بجلی مہنگی ہونے کا فائدہ سیدھا اڈانی کو پہنچ رہا ہے۔دراصل راہل گاندھی نے پریس کانفرنس میں اڈانی پر الزام عائد کرنے کے لیے غیر ملکی انگریزی اخبار ’فنانشیل ٹائمز‘ کا حوالہ پیش کیا۔ انھوں نے کہا کہ فنانشیل ٹائمز نے سبھی کاغذات حاصل کیے ہیں جس سے کوئلہ کاروبار میں گھوٹالہ کا انکشاف ہو رہا ہے۔
راہل گاندھی نے کہا کہ کوئلہ کاروبار میں گھوٹالہ کی بات ہم نہیں کہہ رہے ہیں، لندن کے اخبار کے حوالے سے یہ خبر ہے۔ لیکن ان کے (اڈانی) خلاف جانچ نہیں ہوگی۔ سوال اٹھانے پر بھی اڈانی کی جانچ نہیں ہوگی۔ہندوستان کا پی ایم اڈانی کی حفاظت کر رہا ہے۔راہل گاندھی نے پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ پہلے ہم لوگ 20 ہزار کروڑ روپے گھوٹالہ کی بات کہہ رہے تھے، لیکن اب اس میں 12 ہزار کروڑ روپے مزید جوڑ دیجیے۔ یعنی اب گھوٹالہ 32 ہزار کروڑ روپے کا ہو جاتا ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ آپ جو بجلی کا استعمال کرتے ہیں، بلب یا پنکھا چلاتے ہیں، اس کا پیسہ بٹن دباتے ہی فوراً اڈانی جی کی جیب میں چلا جاتا ہے۔ یہ نمبر دھیرے دھیرے مزید بڑھے گا۔ وزیر اعظم جی اڈانی کی جانچ کیوں نہیں کرا رہے یہ پورا ملک جانتا ہے۔ سیبی کہہ رہی ہے کہ کاغذات نہیں مل رہے ہیں۔ اڈانی کو براہ راست اونچے عہدوں سے سیکورٹی ملی ہوئی ہے۔ عوام کی جیب سے پیسہ چوری کیا جا رہا ہے اور ڈائریکٹ اڈانی کو فائدہ پہنچایا جا رہا ہے۔



