سرورقسیاسی و مذہبی مضامین

آر ایس ایس کے بارے میں ہم کتنا جانتے ہیں؟

آر ایس ایس: ایک نظریاتی تنظیم یا انتہا پسند تحریک؟

rss نظریہ، بی جے پی، سنگھ پر وار، ہندوستانی سیاست، ہندوتوا ایجنڈا، آر ایس ایس کنٹرول، بی جے پی حکومت، بھارت میں اقلیتیں، ہندو راشٹر، مودی حکومت

آر۔ایس۔ایس کے تقریباً دس لاکھ افراد سے زیادہ مذہب کے حفاظت کے لئے تا حیات غیر شادی شدہ رہنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اس تنظیم کی بنیادی فلاسفی کیا ہے ،

آر ایس ایس اپنے آپ کو ایک ثقافتی تنظیم کے طور پر متعارف کرواتی ہے، مگر حال ہی میں اس کے سربراہ موہن بھاگوت نے یہ کہہ کر چونکا دیا کہ ہنگامی صورت حا ل میں ان کی تنظیم صرف تین دن سے بھی کم وقفہ میں 20لاکھ سیوم سیوکوں (کارکنوں) کو جمع کر کے میدان جنگ میں لا سکتی ہے۔ فوج کو صف بندی اور تیاری میں کئی ما ہ درکار ہوتے ہیں۔

وہ یہ بتانے کی کوشش کر رہے تھے، کہ آرایس ایس کی تنظیمی صلاحیت اور نظم و ضبط فوج سے بدرجہا بہتر ہے۔آر ایس ایس کی ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ ایک خاص پوزیشن کے بعد صرف غیر شادی شدہ کارکنان کو ہی اعلیٰ عہدوں پر فائز کیا جاتا ہے۔

آر ایس ایس میں شامل ہونے اور پوزیشن حاصل کرنے کے لیے ہندوستان کے موجودہ وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنی اہلیہ جسودھا بین کو شادی کے چند سال بعد ہی چھوڑا دیاتھا۔ اس لئے آر ایس ایس کی پوری لیڈرشپ غیر شادی شدہ لوگوں پر مشتمل ہے۔

آر ایس ایس کے سب سے نچلے یونٹ کو شاکھا کہتے ہیں۔ ایک شہر یا قصبہ میں کئی شاکھائیں ہوسکتی ہیں۔ ہفتہ میں کئی روز دہلی کی پارکوں میں یہ شاکھائیں ڈرل کے ساتھ ساتھ لاٹھی ،جوڈو، کراٹےاور یوگا کی مشق کا اہتمام کرتے ہوئے نظر آتی ہیں-

اس تنظیم کی فلاسفی ہی فرقہ واریت ، جمہوریت مخالف اور فاشزم پر ٹکی ہے ۔ سیاست میں چونکہ کئی بار سمجھوتوں اور مصالحت سے کام لینا پڑتا ہے اس لئے اس میدان میں براہ راست کودنے کے بجائے اس نے 1951میں جن سنگھ اور پھر 1980میں بی جے پی تشکیل دی۔

بی جے پی پر اس کی گرفت کے حوالے سے نورانی کا کہنا ہے کہ آر ایس ایس کی ایما پر اس کے تین نہایت طاقت ور صدور ماؤلی چندر ا شرما ، بلراج مدھوک اور ایل کے ایڈوانی کو برخاست کیا گیا۔ اڈوانی کا قصور تھا کہ 2005میں کراچی میں اس نے بانی پاکستان محمد علی جناح کو ایک عظیم شخصیت قرار دیا تھا۔

آر ایس ایس کی تقریباً 100سے زائد شاخیں ہیں، جوالگ الگ میدانوں میں سرگرم ہیں۔جیسا کہ سیاسی میدان میں بی جے پی ،حفاظت یا سکیورٹی کے لیے(دوسرے لفظوں میں غنڈہ گردی کے لیے) بجرنگ دل ،مزدورں یا ورکروں کے لیےبھارتیہ مزدور سنگھ ،دانشوروں کے لیے وچار منچ ،غرض کہ سوسائٹی کے ہر طبقہ کی رہنمائی کے لیے کوئی نہ کوئی تنظیم ہےحتیٰ کہ پچھلے کچھ عرصہ سے آر ایس ایس نے مسلم راشٹریہ منچ اور جماعت علماء نامی دو تنظیمیں قائم کرکے انہیں مسلمانوں میں کام کرنے کے لیے مختص کیا ہے۔ پچھلے انتخابات کے دوران یہ تنظیمیں کشمیر میں خاصی سرگرم تھیں۔

ان سبھی تنظیموں کے لیے آر ایس ایس کیڈر بنانے کا کام کرتی ہے، اور ان کے لئےا سکولوں اور کالجوں سے ہی طالب علموں کی مقامی شاکھاؤں کے ذریعے ذہن سازی کی جاتی ہے۔

آج کے دن اس کی کل شاکھاؤں کی تعداد84877ہے جو ملک اور بیرون ملک کے مختلف مقامات پر ہندوؤں کو انتہاپسندانہ نظریاتی بنیاد پر جوڑنے کا کام کررہی ہیں۔20 سے 35 سال کی عمر کے تقریباً 1 لاکھ نوجوانوں نے پچھلے ایک سال میں آر ایس ایس میں شمولیت اختیار کی ہے۔

اس کے ساتھ ہی آر ایس ایس ہندوستان کے 88 فیصد بلاک میں اپنی شاکھاؤں کے ذریعے رسائی حاصل کر چکا ہے۔قابل ذکر واقعہ یہ ہے کہ گزشتہ ایک سال میں آر ایس ایس نے 113421 تربیت یافتہ سوئم سیوک سنگھ تیار کیے ہیں۔

دنیا بھر میں اس کی کتنی شاکھائیں ہیں ،مسلم ممالک میں یہ شاکھائیں کیسے کام کرتی ہیں اور بی جے پی کے اہم فیصلوں میں اس کا کیا رول ہوتا ہے؟!

ہندوستان سے باہر ان کی کل39 ممالک میں شاکھائیں ہیں۔ یہ شاکھائیں ہندو سوئم سیوک سنگھ کے نام سے کام رہی ہیں۔

ہندوستان سے باہر آر ایس ایس کی سب سے زیادہ شاکھائیں نیپال میں ہیں۔اس کے بعد امریکہ میں اس کی شاکھاؤں کی تعداد146 ہے۔ برطانیہ میں 84 شاکھائیں ہیں۔ آر ایس ایس کینیا کے اندر بھی کافی مضبوط حالت میں ہے۔کینیا کی شاکھاؤں کا دائرہ کار پڑوسی ممالک تنزانیہ‘یوگانڈا‘ماریشش اور جنوبی افریقہ تک پھیلا ہوا ہے اور وہ ان ممالک کے ہندوؤں پر بھی اثر انداز ہو رہے ہیں۔

دلچسپ بات یہ کہ ان کی پانچ شاکھائیں مشرق وسطیٰ کے مسلم ممالک میں بھی ہیں۔

چوں کہ عرب ممالک میں جماعتی اور گروہی سرگرمیوں کی کھلی اجازت نہیں ہے اس لئے وہاں کی شاکھائیں خفیہ طریقے سے گھروں تک محدود ہیں۔بتایا جاتا ہے کہ بابری مسجد کی مسماری اور رام مندر کی تعمیر کے لیے سب سے زیادہ چندہ ان ہی ممالک سے آیا تھا۔ فن لینڈ میں ایک الکٹرانک شاکھا ہے جہاں ویڈیو کیمرے کے ذریعے بیس ممالک کے افراد جمع ہوتے ہیں۔ یہ ممالک وہ ہیں جہاں پر آر ایس ایس کی باضابطہ شاکھا موجود نہیں ہے۔

بیرون ملک آر ایس ایس کی سرگرمیوں کے انچارج رام مادھو ہیں ، جو اس وقت بی جے پی کے قومی جنرل سیکریٹری بھی ہیں۔ کشمیر امور کو بھی دیکھتے ہیں، اور وزیر اعظم مودی کے بیرونی دوروں کے دوران بیرون ملک مقیم ہندوستانیوں کی تقاریب منعقد کراتے ہیں۔

منقول ازمعروف قلمکار اور قانون داں اے جی نورانی کتاب The RSS: A Menace to India آر۔ایس۔ایس کے خلاف محاظ کھڑا کرنے سے پہلے اس تنظیم کے بارے میں جاننا ضروری  ہے-

آج راشٹریہ سیوک سنگھ (RSS) کا نیٹ ورک دیکھ کر Cambridge; Harvard، Oxford ، IIM ، IIT، BIT، NITحتیٰ کہ پوری دنیا حیران ہے۔۔ آخر کیوں ؟ آپ بھی جان لیجئے ۔۔۔

ملک کے صدر، وزیر اعظم ، نائب صدر ، وزیر داخلہ ، وزیر خارجہ اور دیگر کئ وزراء ، علاوہ ازیں 18 وزیر اعلیٰ ، 29 گورنر ،01 لاکھ شاخوں میں 15 کڑور خدمات انجام دینے والے ، 01 لاکھ سرسوتی علمی مندرمیں کم و بیش 01 کروڑ طلباء ۔۔02 کروڑ بھارتئے مزدور سنگھ کے اراکین ۔۔۔ 01 کروڑ ABVP کے خدمت گذار ۔۔۔ 15 کروڑ بی۔جے۔پی ممبران ۔۔۔ 09 ھزار پورے طور سے اور 07 لاکھ سابقہ فوجی بطور معاون ۔01 کروڑ وشو ھندو پریشد کے اراکین ۔۔۔ 30 لاکھ بجرنگ دل کے ہندوتوا خادم ۔۔۔18 صوبوں میں 5۔1 لاکھ امدادی

303 لوک سبھا ممبران ، 68 راجیہ سبھا ممبران-1200 اشعاتی اداروں سے شائع ہونے والے نامور رسالے ، اخبار مندرجہ ذیل :

ونواسی کلیان آشرم ، ونبندھو پریشد، سنسکار بھارتی، وگیان بھارتی ، لگھواودیوگ بھارتی ، سیوا سھیوگّ ، سیوا انٹرنیشنل، راشٹریہ سیویکا سمیتیّ ، آروگیے بھارتی ، درگا واہینی، ساماجیک سمرستہ سمیتی۔ سم درشٹی وکاس اینو انوسندھان منڈل۔آرگنائزر۔ پاچجنئے۔ شری رام جنم بھومی مندر نرمان نیاس ۔ دین دیال شودھ سنستھان۔ بھارتئ وچار سادھنا۔ سنسکرت بھارتی۔ بھارت وکاس پریشد۔ جموں کاشمیر سٹڈی سرکل۔ درشٹی سنستھان۔ ھندو ھیلپ لائن۔ ھندو سنویے سیوک سنگھ۔ ھندو مننانی۔ اکھیل بھارتئے ساہتیہ پریشد۔ وویکانند کیندر۔ ترون بھارت۔ ہندوستان سماچار۔ وشو سنواد کیندر۔ جن کلیان پیڈھی۔ اتییھاس سنکلن سمیتی۔ استری شکتی جاگرن۔ ایکل ودیالیہ۔ دھرم جاگرن۔ پتت ہاون سنگھٹنا۔ ھندو ایکتا۔ساورکر ادھیان۔ بھارت بھارتی۔ شیواجی ادھیان۔ اور ایسی کئ دیگر تنظمیں جو ہندو مذہب کی بقا – سلامتی کے لئے مشترکہ طور سے کام کر رہی ہیں ۔

شب و روز ہندووں کو motivation کا کام منعظم طریقے سے انجام دے رہے ہیں۔ آر۔ایس۔ایس کے تقریباً 10 لاکھ افراد نے مذھب کے حفاظت کے لئے تا حیات غیر شادی شدہ رہنے کا فیصلہ کیا ہے۔ہندوستان کے اندازی سبھی مندر میں اس تنظیم کے لئے پیسہ اکٹھا کیا جاتا ھے علاوہ بیرونی ممالک سے بے حساب پیسہ تنظیم کے کھاتوں میں جمع ھوتا ہے۔

آنے والے وقت میں ہمارے سامنے ایک بہت بڑی چنوتی ہے، ہمارے سماج میں اعلیٰ تعلیم یافتہ اور کامیاب تاجر پیشہ افراداپنے آپکو محفوظ سمجھ رہے ہیں جو مستقبل کا سرآب ہے۔اسی لئے بہت ضروری ھے کہ ہم سب مل کر اتحاد کو قائم کریں اور کوئی تفریق کئے بنا سماج کے سبھی لوگوں کے دکھ-درد کا حصٌہ بنیں۔ اپنی سوچ کا دائرہ بڑھائیں کہ اسی میں ہم سب کی بھلائی ہے!

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

(دلت رام کمار کے طویل مضمون کو اردو میں مختصر کرکے پیش کیاگیا ہے)

متعلقہ خبریں

Back to top button