تیز دوڑ اور شدید ورزشیں ہڈیوں کے لیے مفید قرار
ورزش ہڈیوں کے حیاتیاتی بڑھاپے کو سست کرسکتی ہے۔
فن لینڈ (اردو دنیا.اِن/ایجنسیاں):ورزش کی ایک خاص قسم، یعنی اسپرنٹ اور بلند شدت والی کسرت، جس میں قلیل وقت کے لیے سخت حرکات شامل ہوتی ہیں، اب ہڈیوں کی صحت کے لیے بھی مفید ثابت ہوئی ہے۔ ایک تازہ تحقیق سے انکشاف ہوا ہے کہ اگر آپ درمیانی عمر یعنی 40 سے 55 سال کے درمیان ہیں تو یہ ورزش ہڈیوں کے حیاتیاتی بڑھاپے کو سست کرسکتی ہے۔
خصوصاً مردوں میں عمر کے ساتھ ہڈیوں کی کمزوری، بریدگی اور ٹوٹ پھوٹ جیسے مسائل بڑھنے لگتے ہیں۔ تاہم یونیورسٹی آف جے وائسکائیلا، فن لینڈ کے سائنسدانوں نے اس حوالے سے ایک تحقیق میں حیران کن نتائج اخذ کیے ہیں۔ تحقیق میں درمیانی اور بڑی عمر کے افراد کو شامل کیا گیا اور ان کے ران اور پنڈلی کی ہڈیوں پر تیز رفتار اسپرنٹ کے اثرات کا بغور جائزہ لیا گیا۔
یہ مطالعہ دس برسوں پر محیط رہا جس میں ورزش کرنے اور نہ کرنے والے افراد کی ٹانگوں کی ہڈیوں کا کمپیوٹر ٹوموگرافی (CT scan) سے جائزہ لیا گیا۔ تحقیق سے پتا چلا کہ شدت والی قلیل مدتی ورزش، جیسا کہ اسپرنٹ، رسی کودنا اور دیگر حرکات، ہڈیوں کی شکست و ریخت کے عمل کو سست کرتی ہیں اور جسمانی ڈھانچے پر مثبت اثر ڈالتی ہیں۔
ماہرین کے مطابق اگرچہ عمر کے ساتھ جسمانی مشقت کی عادت کم ہو جاتی ہے، لیکن روزانہ کی بنیاد پر چند منٹ کی سخت ورزش بھی ہڈیوں کی صحت کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ اس لیے مشورہ دیا جاتا ہے کہ عمر کے کسی بھی حصے میں اس قسم کی ورزش کو معمول بنایا جائے۔



