زمین کی کھدائی میں ملا خزانہ، زیورات-سکے لوٹنے کیلئے دَوڑیں لگ گئیں
نوئیڈا ، 10اکتوبر (ایجنسیز)
سونا، چاندی اور خزانہ کی طلب کسے نہیں ہوتی؟ ہر کوئی چاہتا ہے کہ کہیں سے کوئی چھپا ہوا خزانہ حاصل ہو اور وہ راتوں رات مالا مال بن جائے۔ قصّے کہانیوں میں یہ چیزیں تو ممکن ہوتی ہیں لیکن حقیقت میں ایسا شاید ہی کبھی ہوتا ہے۔ حالانکہ گوتم بدھ نگر گریٹر نوئیڈا کے دَنکور علاقہ کے راج پور کلا گاؤں میں کچھ اسی طرح کا واقعہ پیش آیا ہے۔ یہاں گزشتہ اتوار کی رات مٹی کے نیچے چھپا ہوا ایک قدیم خزانہ ملا ہے، جس کے بعد پورے گاؤں میں ہنگامہ برپا ہے۔واقعہ یہ ہے کہ گاؤں کے مکھیا کیلاش کے کھیت میں جے سی بی سے کھدائی کے دوران بڑی تعداد میں سفید دھات کے سکّے اور گہنے پائے گئے ہیں۔
ابتدائی اندازہ کے مطابق یہ چاندی کے ہو سکتے ہیں۔ قریب 18 سے 20 زیورات کے ٹکڑے ملے ہیں جن کی جانچ محکمہ آثار قدیمہ کر رہا ہے۔واقعہ کی شروعات تب ہوئی جب ایک دیہی باشندہ اپنی زیر تعمیر عمارت کے لیے مٹی لے جا رہا تھا۔ صبح ہوتے ہی دیہی لوگوں کو مٹی کے ساتھ بکھرے ہوئے سکّے نظر آئے۔ خزانہ کی خبر پھیلتے ہی گاؤں کے لوگ بڑی تعداد میں کھیت کی طرف دوڑ پڑے اور سکوں اور زیورات کو حاصل کرنے کی بھاگ دوڑ شروع ہو گئی۔
لوٹ پاٹ کے دوران لوگوں نے زیورات اور سکوں کو اپنے قبضہ میں لینے کی کوشش کی۔اطلاع ملنے کے بعد محکمہ آثار قدیمہ کی ٹیم اور مقامی پولیس موقع پر پہنچی۔ انہوں نے قریب 18 سے 20 اقسام کے زیورات کے ٹکڑوں کو اپنے قبضہ میں لیا اور جانچ کے لیے ساتھ لے گئے۔ گاؤں میں اس خزانہ کی چرچا ہر کسی کی زبان پر ہے۔ خاص طور پر بچوں کے درمیان۔زمین کے نیچے دبے زیورات اور سکے ملنے کے بعد گوتم بدھ نگر کی تاریخ کی ایک نئی پرت کھلنے کے امکان نے جنم لے لیا ہے۔
یہاں پہلے سے ہی قدیم عہد سے جڑے کئی شواہد اور عقائد موجود ہیں۔ بسرکھ کو راون کے مقام پیدائش کے طور پر جانا جاتا ہے جبکہ دَنکور قصبہ مہا بھارت عہد کے گرو دروناچاریہ سے جڑا ہوا ہے۔ اس کے علاوہ مغل عہد اور انگریزی دور حکومت کے دوران بھی یہاں کے انقلابیوں کی قربانی کا ذکر ملتا ہے۔