روسی و یوکرینی سفارت کاروں کی پیرس میں ملاقات،جنگ بندی معاہدہ کی حمایت
ماسکو،27؍ جنوری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) روس اور یوکرین کی سرحد پر بڑی تعداد میں فوج کی تعیناتی کے درمیان ماسکو اور کیف کے مابین پیرس میں گزشتہ روز بات چیت ہوئی۔روس نے کہا کہ وہ باہمی اختلافات کے باوجود سن 2014 کے مشرقی یوکرین جنگ بندی معاہدے کی حمایت کرتا ہے۔مشرقی یورپ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان پیرس میں فرانس کے صدارتی محل میں گزشتہ روز یوکرین اور روس کے درمیان بات چیت ہوئی۔
نارمنڈی فارمیٹ کے تحت ہونے والی اس بات چیت میں جرمنی اور فرانس کے نمائندے بھی موجود تھے۔سن 2019 کے بعد یہ اپنی نوعیت کی پہلی مذاکرات تھی جس کی حیثیت مشاورتی تھی۔یوکرین کی سرحد پر روس کی جانب سے فوج کی بڑے پیمانے پر تعیناتی کے بعد بھی یہ پہلا موقع تھا جب دونوں ملکوں کے درمیان بات چیت ہوئی۔
بات چیت سے قبل یوکرینی صدر کے مشیر آندری یرماک نے کہا کہ یہ اجلاس پرامن حل کی خواہش کے سلسلے میں ایک ٹھوس اشارہ ہے۔ جس وقت پیرس میں بات چیت جاری تھی اسی دوران فرانسیسی وزیر خارجہ نے ملکی سینیٹ کو بتایا کہ ہم کشیدگی کو کم کرنے کے لیے تمام ضروری پہل کر رہے ہیں۔
فریقین کے درمیان بات چیت کا سلسلہ آٹھ گھنٹے سے زیادہ جاری رہا۔پیرس کے صدارتی محل سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ سفارت کار،جنگ بندی کی غیر مشروط حمایت کرتے ہیں اور منسک معاہدہ کے نفاذ سے متعلق دیگر امور پر اختلافات کے باوجود 22 جولائی 2020 کے جنگ بندی کو مستحکم کرنے کے اقدامات کی مکمل پابندی کریں گے جبکہ فریقین اس مسئلے پر دو ہفتے بعد برلن میں مزید بات چیت کے لیے رضامند ہوگئے ہیں۔
یاد رہے کہ روس اور یوکرین نے سن 2014 اور سن 2015 میں منسک معاہدے پر دستخط کیے تھے گوکہ اس معاہدے کے بعد دونوں جانب سے بڑے حملے رک گئے تاہم وقتاً فوقتاً تصادم کے واقعات ہوتے رہے ہیں۔
بات چیت سے قبل یوکرائنی صدر کے مشیر آندری یرماک نے کہا کہ یہ میٹنگ ”پرامن حل کی خواہش کے سلسلے میں ایک ٹھوس اشارہ ہے۔ جس وقت پیرس میں بات چیت جاری تھی اسی دوران فرانسیسی وزیر خارجہ نے ملکی سینیٹ کو بتایاکہ ہم کشیدگی کو کم کرنے کے لیے تمام ضروری پہل کر رہے ہیں۔
کریملن کے سفیر دمیتری کوزاک نے میٹنگ کے بعد کہا کہ مذاکرات آسان نہیں تھے، لیکن بہر حال ایک مشترکہ مقصد تھا۔ انہوں نے کہا کہ تنازعے کی تشریح اور وضاحت کے حوالے سے تمام اختلافات کے باوجودہم اس بات پر متفق ہو گئے کہ تمام فریقین (مشرقی یوکرائن میں) معاہدوں کے عین مطابق جنگ بندی کو برقرار رکھیں گے۔کوزاک دراصل منسک معاہدے کا ذکر کر رہے تھے جس پر نارمنڈی فارمیٹ کے تحت دستخط کیے گئے تھے۔
یہ نام فرانس کے نارمنڈی میں سن 2014 میں چار ملکوں کے نمائندوں کی ایک میٹنگ کے حوالے سے دیا گیا تھا۔ ۔یہ جنگ بندی معاہدہ یوکرائنی فورسز اور روس نواز علیحدگی پسندوں کے درمیان تصادم کو ختم کرنے کے مقصد سے کیا گیا تھا۔ لیکن سابقہ برسوں کے دوران روس اور یوکرائن دونوں ہی ایک دوسرے پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کرتے رہے ہیں۔
کوزاک کا کہنا تھاکہ ہمیں امید ہے کہ ہمارے رفقاء ہمارے دلائل کو سمجھ چکے ہیں اور دو ہفتے میں ہم نتائج حاصل کرلیں گے۔یورپی کونسل کے خارجہ تعلقات سے وابستہ سیکورٹی پالیسی امورکے ماہر گستاف گریسیل کا کہنا ہے کہ ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ اس سفارتی عمل کا روس یوکرائن سرحد کی صورت حال پر کیا اثر پڑے گا۔
گریسیل نے بات کرتے ہوئے کہا کہ یوکرائن کو لاحق خطرات اب بھی برقرار ہیں، پوٹن خود بھی فوجی طاقت استعمال کرنے کا عندیہ دے چکے ہیں اور روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اسی طرح کی باتیں گزشتہ تین ماہ سے مسلسل دہرا رہے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ ہمیں ان باتوں کو سنجیدگی سے لینا چاہئے۔



