بین الاقوامی خبریں

یوکرین جنگ کے لیے اسلحے کا حصول، روس اقوامِ متحدہ کی پابندیاں نظر انداز کر رہا ہے

واضح رہےکہ بائیڈنے یوکرین کو روس پر امریکی میزائل داغنے کی اجازت ہے!

جنیوا،28نومبر (ایجنسیز) اقوامِ متحدہ نے ہتھیاروں کے پھیلاؤ اور انسانی حقوق کی پامالیوں کی روک تھام کے لیے ان مذکورہ تینوں حکومتوں سے اسلحے کی خرید و فروخت اور لین دین پر پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔روس اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے مستقل رکن کی حیثیت سے ایران اور شمالی کوریا کو سفارتی مدد دیتا ہے جس میں ان پر پابندیوں کو ویٹو کرنے جیسے اقدامات بھی شامل ہیں۔

فروری 2022 میں یوکرین پر روس کے بھرپور حملے کے بعد سے ایران ماسکو کو دو ہزار سے زائد شاہد 131/136 خودکُش ڈرونز اور 18 مہاجر 6 ڈرونز فراہم کرچکا ہے۔روس یوکرین میں حساس انفرااسٹرکچر اور شہری اہداف کو نشانہ بنانے اور کیف کا دفاعی نظام کمزور کرنے کے لیے اکثر ایرانی ڈرونز کا استعمال کرتا ہے۔یوکرین نے رواں برس ستمبر میں کہا تھا کہ روس نے باقاعدہ جنگ کے آغاز کے بعد سے 8060 سے زائد ایرانی ساختہ ڈرونز استعمال کیے ہیں۔

اس میں ایران سے تیار شدہ حالت میں لیے گئے ڈرونز اور روس کے علاقے ری پبلک تاتارستان میں ایرانی پرزے اور ٹیکنالوجی سے بنائے گئے دونوں طرح کے ڈرونز شامل ہیں۔اس کے علاوہ ایران نے روس کو 2024 میں سینکڑوں میزائلوں کی کمک فراہم کی ہے۔بتایا جاتا ہے کہ روس ایران کو ‘سو 35’ لڑاکا طیارے اور جدید دفاعی سسٹم فراہم کرنے کا وعدہ کر چکا ہے۔

بعض روسی ٹیکنالوجیز ایران پہنچ چکی ہیں جس میں سو 35 کے پائلٹس کو تربیت دینے کے لیے استعمال ہونے والے یاک 130 طیارے بھی شامل ہیں۔تاہم ایران میں کس بڑے پیمانے پر روسی ٹیکنالوجی استعمال ہو رہی ہے؟ یہ فی الحال واضح نہیں ہے۔ایران روس کو پراپیگنڈے کے میدان میں بھی مدد فراہم کرتا ہے اور اس کے اعلیٰ حکام کے بیان بازی اور خبروں کی زبان میں یوکرین پر کریملن کے بیانیے سے ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔

مثال کے طور پر، ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای متعدد مواقع پر روس کی جارحیت کو مغربی استعمار اور نیٹو کے خلاف ’’دفاعی اقدام‘‘ قرار دے چکے ہیں۔امریکہ کی قیادت اور یورپی یونین کی حمایت سے اقوامِ متحدہ کی ایران پر عائد کی گئی پابندیوں کا مقصد تہران کے جوہری پروگرام، ہتھیاروں کی خرید و فروخت اور مالیاتی نطام کو ہدف بنانا ہے۔

خطے میں عدم استحکام کے ایرانی منصوبوں کو ناکام بنانا بھی ان پابندیوں کے مقاصد میں شامل ہے۔روس کی ایران سے ہتھیاروں کی خریداری نہ صرف ان پابندیوں کی کھلی خلاف ورزی ہے بلکہ ہتھیاروں کی برآمد سے ایران کی عسکری صنعت کو بھی طاقت حاصل ہو رہی ہے۔ستمبر 2023 سے، شمالی کوریا روس کو لگ بھگ 50 لاکھ توپ خانے کے گولے فراہم کر چکا ہے۔

روس کی اپنی پیداواری صلاحیت 20 سے 30 لاکھ گولے بنانے کی ہے۔ ایسے حالات میں شمالی کوریا کی فراہم کردہ تعداد غیر معمولی ہے۔روس نے یوکرین میں شمالی کوریا کے تیار کردہ کے این 24/23 بیلسٹک میزائل بھی استعمال کیے اگرچہ ان میزائلوں کی ناکامی کی شرح مبینہ طور پر بہت زیادہ ہے۔ہتھیاروں کی خریداری کے علاوہ روس شمالی کوریا کو سفارتی مدد بھی فراہم کرتا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button