بین الاقوامی خبریں

روس کا ایٹمی میزائل کا کامیاب تجربہ، جوہری تجربے پر پابندی منسوخ ہو سکتی ہے

روس کے صدر ولادیمیر پوٹن نے کہا کہ روس نے ایک تجرباتی جوہری کروز میزائل کا کامیابی سے تجربہ کرلیا

ماسکو، 6اکتوبر :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) روس کے صدر ولادیمیر پوٹن نے کہا کہ روس نے ایک تجرباتی جوہری کروز میزائل کا کامیابی سے تجربہ کرلیا ہے۔ پوٹن نے یہ انتباہ بھی کیا کہ ان کے ملک کی پارلیمنٹ جوہری تجربات پر پابندی کے معاہدے کی اپنی توثیق کو منسوخ کر سکتی ہے۔خارجہ پالیسی کے ماہرین کے ایک فورم سے خطاب کرتے ہوئے پوٹن نے اعلان کیا کہ روس نے بیورفنسک کروز میزائل اور بھاری بین البر اعظمی بیلسٹک میزائل، سرمت کی تیاری کو مؤثر طریقے سے مکمل کرلیا ہے اور وہ اس کی پروڈکشن پر کام شروع کرے گا۔انہوں نے وضاحت کیے بغیر کہا کہ، ہم نے جوہری توانائی کے گلوبل رینج کے کروز میزائل، بیورفنسک کا آخری کامیاب تجربہ کر لیا ہے۔ ان کا بیان بیورفنسک کے کامیاب تجربے کا پہلا اعلان تھا۔بیورفنسک کے بارے میں بہت کم جانا جاتا ہے۔

بیورفنسک کا مطلب ہے ’اسٹارم پیٹرل‘‘۔ جس کا ذکر پوٹن نے سب سے پہلے 2018 میں کیا تھا۔پیٹرل سمندر پر سخت حالات میں لمبے فاصلوں کی پرواز کرنے والا ایک پرندہ ہے۔نیٹو نے اس کا کوڈ نام اسکائی فال رکھا تھا اور بہت سے مغربی ماہرین اس کے بارے میں بہت شکوک و شبہات رکھتے تھے جن کا کہنا تھا کہ ایک جوہری انجن انتہائی ناقابل بھروسہ ہو سکتا ہے۔

اس میزائل کے بارے میں خیال کیا گیا ہے کہ یہ ایک جوہری بم یا ایک روائتی بم لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے اور دوسرے میزائلوں کی نسبت زیادہ دیر تک فضامیں رہ سکتا ہے اور جوہری طاقت کی بدولت زیادہ فاصلے تک مار کر سکتا ہے۔امریکہ اور سوویت یونین نیسرد جنگ کے دوران جوہری توانائی کے راکٹ انجن پر کام شروع کیا تھا لیکن انہوں نے ان پراجیکٹس کو انتہائی خطرناک خیال کرتے ہوئیآخر کار انہیں روک دیا۔بیورفنسک اگست 2019 میں مبینہ طور پر بحیرہ ابیض میں ایک روسی نیوی رینج پر تجربات کے دوران ایک دھماکے کا شکار ہو گیا تھا جس میں پانچ جوہری انجینئر اور عملے کے دو ارکان ہلاک ہو گئیتھے۔ دھماکے کے نتیجے میں تابکاری کیمختصر اثرات ظاہر ہوئے جس نے قریبی شہر میں خدشات کو ہوا دی۔روسی عہدے داروں نے اس تجربے میں استعمال ہونے والے ہتھیار کی کبھی نشاندہی نہیں کی لیکن امریکہ نے کہا کہ وہ بیورفنسک تھا۔

پوٹن نے اپنی تقریر میں کہا کہ امریکہ نے 1996 کے جوہری توانائی کے تجربے پر جامع پابندی کے معاہدے پر دستخط کیے ہیں ،لیکن اس کی توثیق نہیں کی ہے۔ جب کہ روس نے اس پردستخط بھی کیے ہیں اور توثیق بھی۔انہوں نیزور دے کر کہا کہ روس بھی وہی موقف اپنا سکتا ہے ،جو واشنگٹن نے اپنایا ہے۔انہوں نے کہا کہ نظریاتی طور پر، ہم اس توثیق کو منسوخ کر سکتے ہیں۔ماسکو نے سوویت یونین ٹوٹنے سے ایک سال پہلے 1990 میں جوہری ہتھیار کا آخری تجربہ کیا تھا۔ اس نے 2000 میں جوہری تجربات پر عالمی پابندی کے معاہدے کی توثیق کی تھی۔

پوٹن کا بیان وسیع پیمانے کے ان خدشات کے دوران سامنے آیا ہے کہ روس یوکرین میں اپنے فوجی بھیجنے کے بعد مغرب کی جانب سے یوکرین کی فوجی امداد جاری رکھنے کی پیش کش کی حوصلہ شکنی کی کوشش میں جوہری تجربات دوبارہ شروع کر سکتا ہے۔ روس کے بہت سے ماہرین نے تجربات کی بحالی پر بات کی ہے۔پوٹن نے کہا کہ اگرچہ کچھ ماہرین نیجوہری تجربات انجام دینے کی ضرورت پر بات کی ہے تاہم انہوں نے خود ابھی تک اس معاملے پر کوئی رائے قائم نہیں کی ہے۔انہوں نے کہا کہ میں ابھی تک یہ کہنے کے لیے تیار نہیں ہوا ہوں کہ آیا ہمارے لیے تجربات کرنا ضروری ہے یا نہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button