جب یوکرین دنیا کی تیسری بڑی جوہری طاقت تھا-امجد خان
روس۔ یوکرین جنگ کو 1124 دن ہوچکے ہیں
روس۔ یوکرین جنگ کو 1124 دن (3سال 28 دن) ہوچکے ہیں۔ یوکرین کی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ یوکرینی دارالحکومت کیف پر روسی حملہ کے بعد سے اب تک 88513 روسی سپاہی ہلاک یا زخمی ہوئے ہیں۔ ان میں سے 1180 روسی فوجی پچھلے 24 گھنٹوں میں ہلاک یا زخمی ہوئے ہیں۔ امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے مطابق امریکی سکریٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو رواں ہفتہ یوکرینی ہم منصب سے بات چیت کے لیے سعودی عرب گئے۔ دوسری جانب پولینڈ کے وزیر خارجہ ریڈوزلا سکورسکی نے کہا ہے کہ پولینڈ، جو اسٹارلنک انٹرنیٹ خدمات تک یوکرین کی رسائی کے لیے رقم ادا کرتا ہے، ایلون مسک کی دھمکی کے بعد دوسرے سپلائر کی خدمات حاصل کرسکتا ہے۔
اسٹارلنک انٹرنیٹ سروس کے مالک ایلون مسک نے پرزور انداز میں کہا تھا کہ اگر میں اسٹارلنک انٹرنیٹ خدمات بند کردوں تو یوکرین کا سارا فرنٹ لائن مفلوج ہوجائے گا۔ جواب میں امریکی وزیر خارجہ نے پولینڈ کے وزیر خارجہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کسی نے بھی اسٹارلنک انٹرنیٹ سروس بند کرنے کی دھمکی نہیں دی۔ یوکرین اور پولینڈ کو اسٹارلنک انٹرنیٹ سروس سے اظہارِ تشکر کرنا چاہیے کیونکہ اسٹارلنک کے بغیر یوکرین کب کا یہ جنگ ہار چکا ہوتا۔
جہاں تک یوکرین کا سوال ہے، ایک ایسا بھی دور تھا جب یوکرین اس کرہ ارض کی تیسری بڑی جوہری طاقت تھا اور پھر وہ اس کرہ ارض کا واحد ملک بن گیا جس نے جوہری ہتھیاروں کو ترک کیا۔ سرد جنگ کے خاتمے کے بعد یوکرین دنیا کی تیسری بڑی جوہری طاقت بن کر ابھرا کیونکہ اس کے پاس سوویت یونین کی تقسیم اور اس کے منتشر ہونے کے نتیجے میں سوویت یونین کے بے شمار جوہری ہتھیار رہ گئے، جن میں تقریباً 5000 جوہری ہتھیار اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل شامل تھے جو 60 تھرمو نیوکلیئر وار ہیڈز لے جانے کی صلاحیت رکھتے تھے۔
اب یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان جوہری ہتھیاروں کو یوکرین میں آخر کہاں رکھا گیا؟ آیا وہ محفوظ بھی ہیں یا نہیں؟ اس طرح کے سوالات کے جواب میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ تمام جوہری ہتھیار یوکرین بھر میں خفیہ اور زیرزمین پوشیدہ مقامات پر رکھے گئے۔ یہ کام بہت ہی رازدارانہ اور خفیہ انداز میں کیا گیا۔ اس قدر زبردست اسلحہ پر کنٹرول ہونے کے باوجود یوکرین نے جوہری اسلحہ کو ترک کرنے کا تاریخی فیصلہ کیا اور وہ ایسا کرتے ہوئے تاریخ میں اس طرح کا قدم اٹھانے والا پہلا ملک بھی بن گیا۔ اس نے رضاکارانہ طور پر جوہری ہتھیاروں کو ترک کیا۔ نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا کہ یہ فیصلہ ملک کے مستقبل کی سمت کو تشکیل دے گا اور روس کے ساتھ جاری موجودہ تنازعہ کی منزل طے کرے گا۔
جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے کا فیصلہ
1990ء کی دہائی کے اوائل میں سوویت یونین کی تحلیل کے بعد یوکرین کو کئی پیچیدہ چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا۔ اگرچہ اس کے پاس جوہری ہتھیاروں کی ایک بڑی تعداد موجود تھی، اس کے باوجود یوکرین کا کوئی آپریشنل کنٹرول نہیں تھا۔ روس نے جوہری ہتھیاروں کو لانچ کرنے کے لیے درکار کوڈز، سنٹرل کمانڈ اور کنٹرول سسٹم برقرار رکھا۔ اس نے یوکرین کو اپنے جوہری اسلحہ آزادانہ طور پر استعمال کرنے کی صلاحیت سے بھی محروم کر دیا۔ اس طرح، یوکرین جوہری اسلحہ استعمال کرنے کی صلاحیت کے بغیر رہ گیا۔
جیسا کہ ماہرین نوٹ کرتے ہیں، ان جوہری اسلحہ کی روک تھام کی قیمت غیرمعمولی تھی۔ چونکہ جوہری اسلحہ پر یوکرین کا کنٹرول نہیں تھا، ایسے میں یوکرین اپنے دفاع کے لیے حقیقی طور پر ان پر انحصار نہیں کرسکتا تھا۔ ساتھ ہی اہم جغرافیائی، سیاسی اور اقتصادی تحفظات بھی تھے، جس کے نتیجے میں یوکرین کو اپنے جوہری اسلحہ ترک کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔
سب سے پہلے، اتنی زیادہ تعداد میں اسلحہ کو برقرار رکھنے اور محفوظ کرنے سے یوکرین کی پہلے ہی مشکلات کا شکار معیشت پر بہت زیادہ دباؤ پڑا۔ اس کے علاوہ، ہتھیاروں کے آپریشنل کنٹرول کی تلاش سنگین سفارتی نتائج کا باعث بن سکتی تھی۔ اگر یوکرین جوہری ہتھیاروں کے آپریشنل کنٹرول کی تلاش کرتا، تو اس کے نہ صرف سنگین اثرات مرتب ہوتے بلکہ خود یوکرین کے اتحادی ممالک، بشمول امریکہ اور NATO، اس سے دوری اختیار کر سکتے تھے اور روس شدت کے ساتھ یوکرین کے خلاف کارروائی کرتا۔
آپ کو بتادیں کہ خود جوہری طاقت ہونے کے باوجود، امریکہ نے ان ممالک کو جوہری، کیمیائی اور حیاتیاتی ہتھیار ختم کرنے (ترک کرنے) کے لیے فنڈز اور مہارت فراہم کی۔ یہ وہ وقت تھا جب یوکرین نے 1994ء کے بڈاپیسٹ میمورنڈم پر دستخط کیے، جس میں اس نے روس، امریکہ اور برطانیہ کی جانب سے سیکورٹی کی یقین دہانیوں کے بدلے اپنے جوہری ہتھیاروں کو ترک کرنے سے اتفاق کیا۔ بڈاپیسٹ میمورنڈم میں یہ وعدہ کیا گیا کہ یہ دستخط کنندگان یوکرین کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام کریں گے اور اس کے خلاف طاقت کے استعمال یا دھمکیوں سے گریز کریں گے۔
روس میں پوٹن کا عروج، کریمیا کا الحاق اور بڈاپیسٹ میمورنڈم
بڈاپیسٹ میمورنڈم میں شامل پرامن نقطہ نظر گزشتہ دہائی کے دوران، خاص طور پر ولادیمیر پوٹن کے عروج اور روس کے اقدامات سے، کھل کر سامنے آیا۔ 1993ء کے اوائل میں جان جے میئر شیمھر جیسے اسکالرس نے خبردار کیا تھا کہ یوکرین کے لیے امن برقرار رکھنے اور اپنے علاقے پر دوبارہ دعویٰ کرنے کی روسی کوششوں کو روکنے کے لیے ترک جوہری اسلحہ ضروری ہے۔
میئر شمہر نے دلیل دی تھی کہ یوکرین کے جوہری ہتھیار اپنے علاقوں پر دوبارہ قبضہ سے متعلق روس کی کوششوں میں حائل ہوں گے۔ ان کا استدلال تھا کہ یوکرین کی ایسی پالیسی روسی قبضہ کو روکنے میں معاون ثابت ہوگی، اور موجودہ حالات میں وہ دلیل صحیح ثابت ہو رہی ہے۔
آپ کو بتادیں کہ سال 2022ء میں روس نے یوکرین کے خلاف بڑے پیمانے پر جنگ شروع کی، جس کے نتیجے میں یوکرین ایک بہت بڑے بحران میں مبتلا ہوگیا۔ خاص طور پر یوکرین کی علاقائی سالمیت اور اقتدارِ اعلیٰ کو خطرہ لاحق ہوگیا، حالانکہ اس کی ضمانت عالمی معاہدات میں دی گئی تھی۔ اب ایک جوہری طاقت سے لیس ملک اس کے لیے براہِ راست خطرہ بنا ہوا ہے۔
اگر دیکھا جائے تو یوکرین کا انحصار حقیقت میں مغربی طاقتوں، خاص طور پر امریکہ اور نیٹو اتحادیوں پر ہے۔ روسی حملہ اور قبضہ کے خلاف دفاع کے لیے یہ حمایت اسے فوجی امداد، بشمول جدید ہتھیاروں کے نظام، تربیت اور خفیہ معلومات کے تبادلے کی شکل میں حاصل ہوئی ہے۔ فی الوقت یوکرین میں چار نیوکلیئر پاور پلانٹس فعال ہیں اور 15 ری ایکٹرز کام کر رہے ہیں، جو مجموعی طور پر 81TWH برقی پیداوار فراہم کرتے ہیں، جو اس کی مجموعی بجلی کی پیداوار کا 55 فیصد ہے۔
آپ کو یہ بھی بتادیں کہ 1986ء میں چرنوبل سانحہ پیش آیا تھا، جو شمالی یوکرین میں ہوا تھا۔ اس سانحے کو آج کی تاریخ کا بدترین نیوکلیئر حادثہ سمجھا جاتا ہے۔ ایک ایسا بھی دور تھا جب یوکرین میں مسلمانوں کی اچھی خاصی آبادی تھی اور وہ اپنی موجودگی کا احساس دلاتے تھے۔ دوسری طرف، روس کی آبادی 14 کروڑ 42 لاکھ 50 ہزار ہے، جس میں تقریباً 10 سے 18 فیصد مسلمان شامل ہیں۔



