بین الاقوامی خبریںسرورق

روس کا امریکہ کو انتباہ: ایران اسرائیل جنگ سے دور رہو ورنہ نتائج سنگین ہوں گے

دشمنی کے خاتمے کے لیے فوجی نہیں بلکہ سفارتی حل کی ضرورت ہے

ماسکو، ۲۰؍جون(اردو دنیا / ایجنسیز)روس نے امریکہ کو سخت تنبیہ کی ہے کہ وہ ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی اور ممکنہ جنگ میں شامل ہونے سے باز رہے۔ روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریہ زاخروف نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’اگر امریکہ ایران میں فوجی کارروائی کرتا ہے تو یہ ایک نہایت خطرناک قدم ہو گا جس کے انتہائی منفی اور غیر متوقع نتائج برآمد ہوں گے۔‘‘

یہ انتباہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب اسرائیل نے سات روز قبل ایران پر غیر معمولی حملے کیے تھے، جن کا ایران نے بھی زوردار میزائل حملوں کے ذریعے جواب دیا ہے۔

روس، جو ایران کا اسٹریٹیجک اور فوجی اتحادی ہے، اس کشیدگی میں براہ راست مداخلت سے گریز کر رہا ہے۔ صدر ولادیمیر پیوٹن ایک ثالث کے کردار میں خود کو پیش کر رہے ہیں۔ روس اور چین کے صدور کے درمیان فون پر ہونے والی بات چیت میں بھی دونوں رہنماؤں نے اسرائیلی جارحیت کی مذمت کی اور مسئلے کو سیاسی و سفارتی طریقے سے حل کرنے پر زور دیا۔

صدر پیوٹن کے معاون یوری اوشاکوف نے صحافیوں کو بتایا کہ ’’ماسکو اور بیجنگ کا ماننا ہے کہ دشمنی کے خاتمے کے لیے فوجی نہیں بلکہ سفارتی حل کی ضرورت ہے۔‘‘

دریں اثنا، امریکی سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’ہم اس معاملے پر غور کر رہے ہیں، لیکن ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔‘‘ واضح رہے کہ ٹرمپ اس سے قبل روسی ثالثی کی پیشکش کو مسترد کر چکے ہیں۔

کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ’’روس کی ثالثی کی پیشکش ان ملکوں کو دی گئی ہے جو اس جنگ کے براہِ راست فریق ہیں، امریکہ کو اس پر اعتراض کا کوئی حق نہیں۔‘‘

اس موقع پر صدر پیوٹن نے واضح کیا کہ ایران نے اسرائیلی حملوں کے باوجود روس سے کوئی فوجی مدد طلب نہیں کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’ایرانی دوستوں نے اب تک ہم سے کسی قسم کی عسکری مدد نہیں مانگی۔‘‘

جب ان سے پوچھا گیا کہ اگر ایرانی سپریم لیڈر کو قتل کیا جاتا ہے تو روس کیا کرے گا، تو پیوٹن نے کہا، ’’میں اس خطرناک امکان پر بات بھی نہیں کرنا چاہتا، لیکن اگر انسانی بنیادوں پر مدد کی ضرورت پیش آئی تو روس ضرور مدد فراہم کرے گا۔‘‘

متعلقہ خبریں

Back to top button