صرف ایک عادت بدلیں… بڑھاپا خود بخود سست ہو جائے گا! روسی ماہر کی حیران کن تحقیق
خون میں شکر اور سوزش بھی بڑھاپے کو تیز کرتی ہے
ماسکو :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)دنیا بھر میں لوگ بڑھاپے کی رفتار کو کم کرنے کے مؤثر طریقوں کی تلاش میں ہیں۔ انٹرنیٹ پر "اینٹی ایجنگ” سے متعلق سرچز میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور بڑھاپے کی علامات کو مؤخر کرنے کے طریقے سب سے زیادہ مقبول موضوعات میں شامل ہیں۔ ایسی صورتحال میں روسی ماہر نے اس مسئلے کا ایک انتہائی سادہ مگر مؤثر حل پیش کر دیا ہے۔
روسی میڈیا کے مطابق انسٹی ٹیوٹ آف بائیولوجی آف ایجنگ کے ڈائریکٹر پروفیسر الیکسی موسکالوف نے بتایا ہے کہ بڑھاپے کی رفتار کم کرنے کا سب سے آسان طریقہ اچھی نیند لینا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ نیند کی کمی یا بے خوابی نہ صرف عمومی صحت کو متاثر کرتی ہے بلکہ بڑھاپے کی علامات کو تیز رفتار بناتی ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ کم گھنٹے کی نیند اور گہری نیند دو مختلف چیزیں ہیں۔ ایک شخص کم سوتا ہے لیکن اگر اسے گہری نیند مل جائے تو جسم کی اندرونی مرمت اور تجدید بہتر طور پر ہوتی ہے۔ ماہرین کے مطابق ہر رات کم از کم دو گھنٹے گہری نیند ضروری ہے۔
پروفیسر موسکالوف کے مطابق گہری نیند کو اسمارٹ واچز یا فٹنس ٹریکرز کے ذریعے آسانی سے ٹریک کیا جا سکتا ہے۔ اسی دوران جسم ہارمونز کی مرمت، ٹشو ریپیر اور تجدید کے عمل سے گزرتا ہے۔ گہری نیند کے مرحلے میں گروتھ ہارمون اور دیگر اہم ہارمونز پیدا ہوتے ہیں جو عمر بڑھنے کے عمل کو سست کرتے ہیں۔انہوں نے خبردار کیا کہ نیند کی کمی یا "سطحی نیند” وقت کے ساتھ جسمانی تنزلی کو تیز کرتی ہے۔
پروفیسر موسکالوف نے مزید بتایا کہ خون میں شکر کی زیادہ مقدار اور ہلکی سوزش بھی عمر بڑھنے کی رفتار کو بڑھانے والے عوامل میں شامل ہیں۔ اگر سی ری ایکٹیو پروٹین (CRP) کی سطح 2 سے زیادہ ہو جائے تو دل اور عروقی امراض کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، جو بڑھاپے کی سوزشی قسم کی نشاندہی کرتا ہے۔ اس کی مثالی سطح 0.5 سے کم ہونی چاہیے۔
اسی طرح انہوں نے بتایا کہ گلائیکیٹڈ ہیموگلوبن خون میں گلوکوز کے تعامل کو ظاہر کرتا ہے اور پری ذیابیطس کی علامت ہو سکتا ہے۔ شکر جسم کے پروٹین کو سخت بنا دیتی ہے اور یہ تبدیلی ناقابل واپسی ہوتی ہے، جو بڑھاپے کو تیز کرتی ہے۔



