کیف؍لندن ،9اپریل:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)مشرقی یوکرین میں واقع ایک ریلوے اسٹیشن پر جمعے کو روسی راکٹ حملوں کے نتیجے میں کم از کم 30 افراد ہلاک جب کہ 100سے زیادہ زخمی ہوگئے۔ریلوے کے اہل کاروں نے بتایا ہے کہ اس اسٹیشن سے ایک ایسے وقت میں شہری آبادی کے انخلا کا عمل جاری تھا، جب خطے کو بڑے پیمانے پر روسی حملوں کے خطرات لاحق ہیں۔
رائٹرز کی ایک رپورٹ کے مطابق، کراماٹوسک نامی ریلوے اسٹیشن پر دو راکٹ گرے۔ ڈونیسک خطے کے گورنر نے بتایا ہے کہ اْس وقت اسٹیشن پر ہزاروں افراد اور ان کے اہل خانہ محفوظ علاقوں کی جانب روانہ ہونے کے لیے موجود تھے۔وائٹ ہاؤس نے ریلوے اسٹیشن پر کیے گئے اس حملے کو خوفناک قرار دیا ہے جس کی ہولناک تصاویر سامنے آچکی ہیں۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان، کیٹ بیڈنگ فیلڈ نے سی این این کو ایک انٹرویو میں بتایا کہ امریکہ روسی حملوں کے خلاف یوکرین کی حمایت جاری رکھے گا۔
یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے بتایا ہے کہ میزائل اس وقت گرا جب ہزاروں لوگ ریل گاڑی پر سوار ہونے کا انتظار کر رہے تھے۔موصول ہونے والی تصاویر میں ہلاک و زخمی پلیٹ فارم پر پڑے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں، جب کہ گرنے والے راکٹ پر روسی زبان میں تحریر ہے کہ بچوں کے لیے۔
دوسری جانب، یورپی یونین نے جمعے کو باضابطہ طور پر روس کے خلاف مزید تعزیرات عائد کرنے کا اعلان ہے۔ یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے یورپی کمیشن کی صدر ارسولا وان ڈر لیان اور یورپی یونین کی بیرونی پالیسی کے سربراہ، جوزف بوریل نے آج یوکرین کا دورہ کیا۔اقتصادی شعبے میں نافذ کی جانے والی ان تعزیرات کا تعلق کوئلے، عمارتی لکڑی اور کیمیکلز سے ہے جن کی درآمد بند کردی گئی ہے۔
اس کے علاوہ تمام روسی بینکوں کے ساتھ لین دین پر بھی پابندی لگا دی گئی ہے۔برطانوی وزارت دفاع نے جمعے کے روز کہا ہے کہ یوکرین میں موجود روسی فوج شمالی یوکرین سے بیلاروس تک کے خطے سے واپس چلی گئی ہے۔ انٹیلی جنس کی اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ کچھ روسی فوج کو مشرقی یوکرین میں تعینات کیے جانے کا امکان ہے، تاکہ وہ ڈونباس کے علاقے میں لڑ سکے، جو روس کی سرحد سے ملنے والا یوکرینی خطہ ہے۔
دریں اثنا ، روس نے اپنے حملے کے بارے میں حقیقی تخمینہ لگاتے ہوئے جمعے کے روز یہ بات تسلیم کی کہ فوج کی ہلاکتوں میں اضافہ ایک سانحہ ہے، جب کہ پابندیوں کے نتیجے میں روس کی معیشت کو کاری ضرب لگ چکی ہے۔



