ماسکو ،19جولائی :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) عالمی سطح پر 12ویں نمبر کی کھلاڑی ڈاریہ کساتکینہ کا کہنا ہے کہ کھیلوں کے با اثر اسٹار س کو دوسروں کے لیے مشعل راہ بننے کی ضرورت ہے۔ گزشتہ ماہ روس کی ایک فٹ بال کھلاڑی نے بھی ہم جنس پرست ہونے کا اعلان کیا تھا۔روس کی ٹینس اسٹار ڈاریہ کساتکینہ نے اعلان کیا ہے کہ اصل میں وہ ایک ہم جنس پرست ہیں۔ یوٹیوب پر ایک ویڈیو انٹرویو کے دوران انہوں نے ہم جنس پرستوں کے ساتھ روس میں جس طرح کا سلوک برتا جاتا ہے اس پر بھی تنقید کی۔
معروف ویڈیو بلاگر وتیا کراوچینکوف کے ساتھ ایک انٹرویو میں ٹینس اسٹار ڈاریہ کساتکینہ نے کہا کہ جیسا کہ کہا جاتا ہے، کوٹھری میں بند رہنا تو بے معنی ہے۔ اس کا کوئی فائدہ نہیں ہے، اس بارے میں جب تک آپ اپنے خیالات کا اظہار نہیں کرتے اس وقت تک یہ ہمیشہ آپ کے دماغ میں گھومتا رہے گا۔ ظاہر ہے کہ ہر شخص کو یہ فیصلہ کرنا ہوتا ہے کہ کب، کس طرح سے اور کتنا کھلنا ہے۔25 سالہ ٹینس کھلاڑی نے اس حقیقت پر بھی افسوس کا اظہار کیا کہ روس میں ممنوعہ موضوعات کی فہرست بہت طویل ہے۔ انہوں نے کہا کہ میرا ماننا ہے کہ کھیل کی دنیا کے یا پھر کسی دوسرے شعبے سے تعلق رکھنے والے با اثر لوگوں کو اس بارے میں کھل کر بات کرنے کی ضرورت ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ ان نوجوانوں کے لیے بہت اہم ہے جو معاشرے کے ساتھ بہت مشکل وقت گزارتے ہیں اور انہیں مدد کی ضرورت ہوتی ہے۔اپنے ویڈیو انٹرویو کے شائع ہونے کے چند گھنٹے بعد ہی کساتکینہ نے انسٹاگرام پر ایک تصویر شیئر کی جس میں وہ اپنی ایک دوست خاتون کو جامنی رنگ کے دل کی ایموجی کے ساتھ گلے لگا رہی ہیں۔
روس میں بہت سے قانون سازوں نے پیر کے روز ہی عوامی حلقوں میں غیر فطری جنسی تعلقات کے بارے میں کسی بھی بحث پر پابندی لگانے کی ایک تجویز پیش کی تھی اور اسی کے چند گھنٹوں کے بعد ہی کساتکینہ کا یہ اعلان سامنے آیا۔روس نے سن 2013 میں اس حوالے سے ہم جنس پرستوں کے پروپیگنڈہ کے نام سے ایک قانون منظور کیا تھا جس کے تحت ہم جنس پرستوں کو پرائیڈ مارچ نکالنے کی اجازت نہیں ہے اور اس قانون کا استعمال ہم جنس پرستوں کے حقوق کے کارکنوں کو حراست میں لینے کے لیے بھی کیا جاتا ہے۔



