
سہارنپور: منہدم مسجد کے ملبے سے ملے کنویں کا ASI نے کیا معائنہ،مٹی اور اینٹوں کے نمونے لیے گئے
اپوزیشن نے پولیس پر لگائے پابندیوں کے الزامات
سہارنپور، 7 ستمبر (اردودنیانیوز/ایجنسیز)اترپردیش کے سہارنپور کلکٹریٹ احاطے میں منہدم کی گئی مسجد کے ملبے کے نیچے ملنے والے کنویں کا آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا (ASI) کی تین رکنی ٹیم نے پیر کو معائنہ کیا۔ انتظامیہ نے کنویں کو محفوظ رکھنے کے لیے علاقے میں بیریکیڈنگ کی تھی، جبکہ معائنے کے دوران سکیورٹی کے بھی سخت انتظامات کیے گئے۔
سہارنپور کے صدر سب ڈویژنل مجسٹریٹ سُبودھ کمار کے مطابق ASI کے تین افسران پیر کی دوپہر موقع پر پہنچے اور مقامی انتظامی حکام کی موجودگی میں کنویں کا جائزہ لیا۔ انہوں نے بتایا کہ کنویں کی گہرائی تقریباً 20 فٹ اور چوڑائی ڈیڑھ میٹر ہے۔ ASI اہلکاروں نے کنویں کے اندر سیڑھی اتار کر گہرائی کی پیمائش کی اور اس کے اندرونی حصے کا تفصیلی جائزہ لیا۔
معائنے کے دوران کنویں کی فوٹوگرافی اور ویڈیوگرافی بھی کی گئی۔ اس کے علاوہ ASI ٹیم نے کنویں کے اندر سے مٹی اور اینٹوں کے باقیات کے نمونے بھی جمع کیے ہیں۔ حکام کے مطابق ان شواہد کی جانچ سے کنویں کی عمر اور اس کے تاریخی پس منظر کے بارے میں معلومات حاصل کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
کنویں کی دریافت کے بعد اس کی اصل اور ماضی کے استعمال کو لے کر مختلف دعوے سامنے آئے ہیں۔ اس معاملے میں شکایت کنندہ اور بجرنگ دل کے سابق کنوینر وکاس تیاگی نے دعویٰ کیا ہے کہ مسجد کی تعمیر سے قبل اس مقام پر ممکنہ طور پر مندر موجود رہا ہوگا۔
دوسری جانب کانگریس کے رکن پارلیمنٹ عمران مسعود نے اس دعوے سے اختلاف کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کنواں مسجد کا حصہ تھا اور ماضی میں نماز سے قبل وضو کے لیے پانی فراہم کرنے کے کام آتا تھا۔ ان متضاد دعوؤں کے درمیان اب ASI کی جانب سے جمع کیے گئے شواہد کی جانچ کو اہم سمجھا جا رہا ہے۔
یہ مسجد سہارنپور کلکٹریٹ کے احاطے میں واقع تھی اور اسے 5 ستمبر کو بھاری پولیس نفری کی موجودگی میں منہدم کیا گیا تھا۔ مسجد کے خلاف شکایت بجرنگ دل کے سابق کنوینر وکاس تیاگی نے 2025 میں سٹی مجسٹریٹ کے سامنے دائر کی تھی۔ درخواست میں مسجد کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کارروائی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
سٹی مجسٹریٹ نے معاملے کی سماعت کے بعد مسجد کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اسے منہدم کرنے کا حکم دیا تھا۔ مسجد کی انتظامی کمیٹی نے اس حکم کو ضلعی عدالت میں چیلنج کیا، تاہم عدالت نے 2 ستمبر کو کمیٹی کی اپیل مسترد کر دی۔ اس کے بعد 5 ستمبر کو مسجد کو منہدم کر دیا گیا۔
مسجد کے انہدام اور کنویں کی دریافت کے معاملے پر سیاسی ردعمل بھی سامنے آیا ہے۔ سماج وادی پارٹی کے ایم ایل سی لال بہاری یادو نے کہا کہ ماضی میں کنویں لوگوں کے لیے پانی حاصل کرنے کا عام ذریعہ ہوا کرتے تھے اور مختلف برادریوں کے افراد ان کا استعمال کرتے تھے۔ ان کے مطابق کسی کنویں کی موجودگی کو محض اس بنیاد پر کسی ایک برادری سے جوڑنا درست نہیں کہ وہ کسی مخصوص مقام پر موجود ہے۔
سماج وادی پارٹی کی رکن پارلیمنٹ اقرا حسن نے بھی سہارنپور پہنچ کر پولیس کارروائی پر اعتراض کیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اپوزیشن رہنماؤں کو علاقے میں جانے سے روکا جا رہا ہے۔ اقرا حسن کے مطابق ان کے وفد میں 23 افراد شامل ہونے تھے، لیکن پولیس نے بیشتر افراد کو روک دیا، جس کے بعد صرف چند لوگ ہی موقع تک پہنچ سکے۔
اقرا حسن نے الزام لگایا کہ پولیس گزشتہ دو دن سے اپوزیشن رہنماؤں کی نقل و حرکت پر نظر رکھ رہی تھی اور بعض رہنماؤں کے گھروں کے باہر بھی پولیس تعینات کی گئی تھی۔ ان کا دعویٰ تھا کہ مسجد کو منہدم کیے جانے کے دوران منتخب نمائندوں کو موقع پر پہنچنے سے روکا گیا۔
سماج وادی پارٹی کی جانب سے یہ بھی کہا گیا کہ پارٹی کے وفد کو بھاری پولیس نفری کے درمیان سرکٹ ہاؤس میں نظر بند رکھا گیا۔ پارٹی رہنماؤں نے کمشنر کی عدم موجودگی پر ناراضی کا اظہار کیا۔ مظفرنگر سے ایس پی کے رکن پارلیمنٹ ہرندر ملک بھی سہارنپور میں کمشنر کے دفتر پہنچے۔
ادھر لکھنؤ میں کانگریس کے ریاستی صدر اجے رائے کو سہارنپور جانے سے روکے جانے کے بعد پارٹی دفتر کے باہر احتجاج کے دوران پولیس نے حراست میں لے لیا۔ اجے رائے نے الزام عائد کیا کہ اترپردیش حکومت پولیس کا استعمال کرکے اپوزیشن رہنماؤں کو سہارنپور پہنچنے سے روک رہی ہے۔
اجے رائے نے سہارنپور میں مسجد کے انہدام پر بھی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا اور الزام لگایا کہ ریاستی حکومت اپنی ناکامیوں سے توجہ ہٹانے کے لیے اپوزیشن کے خلاف کارروائیاں کر رہی ہے۔ انہوں نے پنچایت انتخابات کا معاملہ بھی اٹھاتے ہوئے کہا کہ تقریباً 68 ہزار طلبہ اور پنچایت ادھیکار سنگھ سے وابستہ افراد نے انتخابات جلد کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔۔



