
سینٹ جانس کالج آگرہ میں یوتھ فیسٹیول کے زیر اہتمام اردو ڈبیٹ پروگرام کا انعقاد کیا گیا
آگرہ : (اردودنیا.اِن)سینٹ جانس کالج ، آگرہ میں یوتھ فیسٹیول کے زیر اہتمام ٩ مارچ کو اردو ڈبیٹ کا پروگرام منعقد کیا گیا- جسکا عنوان تھا "اس ایوان کی آرا کے مطابق آن لائن تعلیم ہی مستقبل کا طرزِ تدریس ہے” -کافی تعداد میں طلباء و طالبات نے پروگرام میں حصہ لیتے ہوئے اپنے خیالات کا اظہار کیا –
پروگرام میں بحیثیت جج وسیم بیگ صاحب (صوبائی کارپوریشن سے ریٹائرڈ ڈویژنل مینیجر ) اور صائمہ مصطفٰی صاحبہ( لیکچرار صغیر فاطمہ انٹر کالج) نے شرکت کی اور نیک اور مفید مشوروں سے طلباء و طالبات کی حوصلہ افزائی کی –

پروگرام کی کنوینر سعدیہ سلیم شمسی صاحبہ نے تمام مہمانان کا استقبال کرتے ہوئے پروگرام کا آغاز کیا اور طلباء و طالبات کو اسی طرح آگے بڑھ چڑھ کر پروگرام میں شرکت کرنے کی تلقین کی موصوفہ نے کہا کہ شعبہ اردو کے سابق صدر محترم شفیق اشرف اشرفی صاحب کی دعائیں ہمارے ساتھ ہیں اور انشاءاللہ آئندہ بھی رہیں گیں.
طلباء کو مخاطب کرتے ہوئے جج وسیم بیگ صاحب نے کہا کی یہ موضوع آج کے وقت کی ضرورت ہے، اور ساتھ ہی طلباء کو بہترین طریقے سے ڈبیٹ پیش کرنے کے لیے آپ نے کچھ ہدایات بھی دیں –
جج صائمہ مصطفٰی صاحبہ نے کہا کہ بچوں کو کثیر تعداد میں ڈبیٹ کا حصہ ہونا چاہیے کیونکہ اس سے ہم اپنے خیالات کو بہتر طریقے سے لوگوں تک پہنچا سکتے ہیں اور ساتھ ہی اپنے علم میں اضافہ کر سکتے ہیں –
کالج کے پرنسپل پروفیسر ایس’ پی’ سنگھ صاحب نے طلباء کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آج دور بدل رہا ہے نئی نئی چیزیں وجود میں آ رہی ہیں تو آنلائن تعلیم میں آسانی کی وجہ سے طلباء اپنے علم میں وسعت پیدا کر سکتے ہیں –
کالج کی ثقافتی تقریب کمیٹی کی ممبر ڈاکٹر ونی جین صاحبہ یوتھ فیسٹیول کے دیگر پروگرام میں مصروف تھیں اسکے باوجود بھی انہوں نے اپنی شمولیت اپنے وائس پیغام کے ذریعے بچوں تک پہنچائ اور اپنی غیر موجودگی کا احساس نہیں ہونے دیا – کافی تعداد میں طلباء و طالبات نے موضوع کی تائید اور مخالفت میں اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیا – موضوع کی تائید میں عرشی، نشا پروین، عابدہ، الینا، ندا عائشہ، سمرن، الفیا اور مخالفت میں محمد حارث انصاری، محمد نوید، رافعہ، صوفیہ، عمرانہ، ثانیہ سیفی، بشری، شمع اور آفرین نے بہت ہی مؤثر انداز میں اپنے خیالات کو پیش کیا –
ایک طالب علم الینا نے موضوع کی تائید میں بولتے ہوئے کہا کہ آنلائن تعلیم کوئی جدید فلسفہ نہیں بلکہ طریقہ تعلیم ہے۔ جب جغرافیائی یا وقت کی مجبوریوں کی وجہ سے شاگرد اور استاد ایک دوسرے سے علیحدہ جگہوں پر ہوتے ہیں تو فاصلاتی تعلیم وجود میں آتی ہے – موضوع کی مخالفت میں اپنے خیالات کو پیش کرتے ہوئے محمد نوید نے کہا کہ آنلائن تعلیم طلباء کے علم کی ترقی میں تو معاون ثابت ہو سکتی ہے
مگر کردار سازی اور معاشرتی فلاح جو تعلیم کے اہم مقاصد ہیں وہ آنلائن تعلیم میں طلباء کے اندر پیوست نہیں ہو پاتے – پروگرام میں شعبہ اردو کے اساتذۂ کرام سعدیہ سلیم شمسی صاحبہ اور دانشہ صاحبہ اور کالج ڈبیٹ کمیٹی کی جانب سے صدف اشتیاق صاحبہ اور عائشہ بیگم صاحبہ نے شرکت کی – ڈبیٹ میں ایم. اے. فائنل کی عمرانہ نے اول، ایم. اے فائنل کے نوید نے دوئم اور بی. اے. اول کی رافعہ اور محمد حارث نے سوئم انعام حاصل کیا-
آخر میں پروگرام کا اختتام کرتے ہوئے دانشہ صاحبہ نے تمام مہمانان کا دل کی عمیق گہرائیوں سے شکریہ ادا کیا اور ساتھ ہی طلباء کا بھی شکریہ ادا کیا کہ جنکی وجہ سے یہ پروگرام کامیابی کی منازل کو طے کر پایا









