سرورقسیاسی و مذہبی مضامین

تاریخی کہانی-شیخ معظم الٰہی

سلطان صلاح الدین ایوبی اور صلیبی جنگجوؤں کے درمیان سال باسال تک معرکہ آرائیاں جاری رہیں

سلطان صلاح الدین ایوبی Salahuddin Ayyubi اور صلیبی جنگجوؤں کے درمیان سال باسال تک معرکہ آرائیاں جاری رہیں۔ آخر مختلف جنگی کاروائیوں اور مقابلوں کے بعد وہ معرکہ پیش آیا جو تاریخ میں فیصلہ کن حیثیت رکھتا ہے اور جس نے فلسطین کی مسیحی سلطنت کا خاتمہ اور صلیبیوں کی قسمت کا فیصلہ کردیا۔ یہ خطین کی جنگ تھی جو ہفتہ کے دوران 24 ربیع الآخر 385 کو پیش آئی اور جس میں مسلمانوں کو فتح حاصل ہوئی۔

مسیحی لشکر کے چیدہ اور منتخب جوان مرد قید کرلئے گئے یروشلم کا باشاہ گائی اور اس کا بھائی کاریجی نالڈ اور بڑے بڑے عیسائی شرفاء گرفتار کرلئے گئے۔ باقی فلسطین کے تمام عیسائی بہادر اور شہسوار مسلمانوں کے پہرے میں تھے۔ مسیحی لشکر کے معمولی سپاہی پیدل اور سوار جو زندہ بچے تھے سب مسلمانوں کے امیر ہوگئے، ایک ایک مسلمان سپاہی تیس تیس عیسائیوں کو جنہیں خود اس نے گرفتار کیا تھا۔

خیمے کی رسی میں باندھے لے جاتا دیکھا گیا، ٹوٹی ہوئی صلیبوں اور کٹے ہوئے ہاتھ پاؤں میں مردوں کے ڈھیر اس طرح لگے تھے جیسے پتھر پر پتھر پڑے ہوں اور کٹے ہوئے سر زمین پر اس طرح بکھرے پڑے تھے جیسے خربوزوں کے کھیت میں خربوزے پڑے نظر آئیں۔

مدتوں تک جنگ کا یہ میدان جس میں یہ خونی لڑائی ہوئی تھی اور جہاں بیان کیا جاتا ہے کہ تین ہزار آدمی مارے گئے تھے۔ مشہور رہا کہ ایک سال کے بعد ہڈیوں کے تودے اور ڈھیر دور سے لوگوں کو نظر آتے تھے اور جانوروں کے کھانے کے بعد ٹکڑے کے بچے تھے وہ بھی میدان جنگ میں جابجا بڑے دکھائی دیتے تھے۔ اس فتح کے بعد یہ واقعہ بھی تاریخ میں یاد رہے گا جس سے سلطان کی دینی حمیت اور قوت ایمانی کا اندازہ ہوتا ہے۔ سلطان صلاح الدین ایوبی نے اپنا خیمہ لڑائی کے میدان میں نصب کیا، جب خیمہ نصب ہوگیا تو حکم دیا کہ قیدی سامنے حاضر کئے جائیں۔

یروشلم کا بادشاہ گائی اور اس کا بھائی ریجی نالڈ دونوں اندر لائے گئے۔ سلطان نے بادشاہ یروشلم کو اپنے پہلو میں بٹھایا اور اسے پیاسا دیکھ کر برف میں سرد کئے ہوئے پانی کا کٹورا دیا۔ سلطان یہ دیکھ کر ناخوش ہوا اور ترجمان سے کہا کہ بادشاہ گائی نے دیا ہے۔ روٹی اور نمک جسے دیتے ہیں وہ محفوظ سمجھا جاتا ہے مگر یہ آدمی (ریجی نالڈ) اس قسم کی حفاظت میں ہی میرے انتقام سے نہیں بچ سکتا۔ سلطان اتنا کہہ کر کھڑا ہوا اور ریجی نالڈ کے سامنے آیا۔ ریجی نالڈ جب سے خیمہ میں داخل ہوا تھا برابر کھڑا رہا تھا۔

سلطان نے اس سے کہا کہ سن میں نے تجھے قتل کرنے کی قسم دو مرتبہ کھائی تھی۔ ایک مرتبہ تو اس وقت جب تو نے مکہ اور مدینہ کے مقدس شہروں پر حملہ کرنا چاہا تھا۔ دوسری مرتبہ اس وقت جب تو نے دھوکے اور دغا بازی سے حاجیوں کے قافلہ پر حملہ کیا تھا۔ جب ان بے کس حاجیوں نے تم سے انسانیت اور شرافت کی درخواست کی تو تم نے گستاخانہ لہجے میں کہا کہ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نعوذ باللہ سے کہو کہ تمہیں رہائی دلائیں۔ یہ فقرہ جب صلاح الدین ایوبی تک پہنچا تو اس نے قسم کھائی تھی کہ اگر یہ بے ادب اور گستاخ میرے ہاتھ آئے گا تو اپنے ہاتھ سے اس کو قتل کردوں گا۔

سلطان نے ریجی نالڈ سے کہا کہ دیکھ اب تیری بے ادبی اور گستاخی کا انتقام لیتا ہوں اتنا کہہ کر سلطان صلاح الدین ایوبی نے تلوار نکالی اور جیسا کہ عہد کیا تھا ریجی نالڈ کو اپنے ہاتھ سے قتل کیا جو کچھ رمق باقی تھی اسے پہرے داروں نے آکر ختم کردیا۔

باشاہ گائی اس قتل کو دیکھ کر لرز گیا ور سمجھا کہ اب اس کی باری آئے گی۔ سلطان نے اسے اطمینان دلایا کہ بادشاہوں کا دستور نہیں کہ وہ بادشاہ کو قتل کریں۔ تمہارے بھائی نے بار بار شکنی کی تھی اب جو کچھ گزر گیا گزرگیا۔ ایک روایت میں ہے کہ سلطان نے ریجی نالڈ کو طلب کیا اور کہا کہ لو میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کا انتقام لیتا ہوں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button