سرورققومی خبریں

غازی سید سالار مسعودؒ کی درگاہ اور مہاراشٹر میں ہندوتوا ہجوم نے بھگوا جھنڈے لہرائے

ہندوتوا شدت پسندی کے واقعات میں اضافہ، سوشل میڈیا پر ویڈیوز وائرل

 پریاگ راج (یوپی) :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) رام نومی کے موقع پر جہاں ملک بھر میں شاندار جلوس اور تقریبات منعقد کی گئیں، وہیں پریاگ راج کے سکندرا علاقے میں ایک حساس اور متنازعہ واقعہ پیش آیا جس نے فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو شدید دھچکا پہنچایا۔ اطلاعات کے مطابق، رام نومی کے دن غازی سید سالار مسعودؒ کی تاریخی درگاہ پر بھگوا جھنڈا لہرا دیا گیا۔ اس واقعے کی قیادت منیندر پرتاپ سنگھ نامی ایک نوجوان نے کی، جس نے اپنے حامیوں کے ساتھ درگاہ کی چھت پر چڑھ کر زعفرانی پرچم لہرایا اور نعرے بازی کی۔ ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد مقامی عوام میں سخت غم و غصہ پایا گیا، جبکہ پولیس نے فوری طور پر علاقے میں بھاری نفری تعینات کر دی۔

واقعے کی حساس نوعیت کے پیشِ نظر پولیس اہلکاروں کے خلاف بھی محکمانہ کارروائی زیر غور ہے۔ منیندر سنگھ نے ایک ویڈیو بیان میں درگاہ کو ہٹانے کا مطالبہ کرتے ہوئے غازی مسعود کو "حملہ آور” قرار دیا، حالانکہ یہ مقام صدیوں سے روحانی مرکز کی حیثیت رکھتا ہے۔ ادھر مغربی بنگال میں بھی رام نومی کو سیاسی رنگ دیتے ہوئے بی جے پی رہنما سویندو ادھیکاری نے سوناچورا، نندی گرام میں رام مندر کا سنگِ بنیاد رکھا۔ یہ واقعات ظاہر کرتے ہیں کہ مذہبی تہواروں کو کس طرح انتخابی سیاست اور فرقہ وارانہ بیانیے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

مہاراشٹر میں حضرت احمد چشتیؒ کی درگاہ پر بھی حملہ

اسی قسم کا واقعہ 26 مارچ 2025 کو مہاراشٹر کے راہُوری ضلع، احمد نگر (Ahilyanagar) میں پیش آیا، جہاں ایک ہندوتوا ہجوم نے حضرت احمد چشتیؒ کی درگاہ پر حملہ کر دیا۔ ہجوم نے سبز جھنڈا اتار کر بھگوا جھنڈا لہرایا اور "جے شری رام” کے نعرے لگائے۔ ویڈیوز کے مطابق کچھ افراد تالیاں بجا کر اس حرکت کی تائید کرتے دکھائی دیے۔

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ لوگ زبردستی درگاہ کے احاطے میں داخل ہوئے اور جھنڈا اتارا۔ پولیس نے بعد میں اضافی فورسز تعینات کیں، مگر واقعے میں شامل کسی بھی شخص کی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔

یہ واقعات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ملک میں 2026 کے اسمبلی انتخابات کی تیاری ہو رہی ہے، اور رام نومی جیسی تقریبات کو بعض حلقے سیاسی مقصد کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ رجحان نہ صرف مذہبی ہم آہنگی کے لیے خطرناک ہے بلکہ آئندہ انتخابات میں فرقہ وارانہ ایجنڈے کے زور پکڑنے کا اشارہ بھی دیتا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button