قومی خبریں

اداکار سلمان خان بنام کیتن ککڑ مذہبی تفریق معاملہ:بمبئی ہائی کورٹ میں فیصلہ محفوظ

ممبئی ، 11اکتوبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)ممبئی ہائی کورٹ نے اداکار سلمان خان کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔ یاد رہے کہ اگست2022 کے مہینے میں بالی ووڈ اداکار سلمان خان نے اپنے پڑوسی کیتن ککڑ کے خلاف سوشل میڈیا پر اشتعال انگیز پوسٹ کرنے کا الزام لگاتے ہوئے درخواست دائر کی تھی۔ سلمان نے عدالت میں درخواست دائر کرتے ہوئے کہا تھا کہ کیتن ککڑ نے سوشل میڈیا پر ان کے خلاف بہت سی پوسٹس کی ہیں، جو توہین آمیز اور اشتعال انگیز ہیں۔دراصل کیتن نے سلمان خان پر فارم ہاؤس میں غیر قانونی کام کرنے کا جھوٹا الزام لگایا تھا۔ اس معاملے کی سماعت آج یعنی منگل کو ہوئی۔

جس کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا۔رواں سال مارچ میں سلمان خان نے کیتن ککڑ کے خلاف ہتک عزت کا دعویٰ دائر کرتے ہوئے سول کورٹ کے حکم کو چیلنج کیا تھا۔ لیکن اداکار کو وہاں سے کوئی مثبت جواب نہیں ملا اور عدالت نے کیتن کے خلاف کوئی ریلیف دینے سے انکار کر دیا۔سلمان خان نے مطالبہ کیا تھا کہ عدالت کیتن کو سوشل میڈیا پر ان کے خلاف اپ لوڈ کی گئی ویڈیوز کو ہٹانے اور ان کے خلاف کوئی تبصرہ کرنے سے روکے۔ لیکن عدالت نے سلمان کو رعایت نہیں دی۔ ایسے میں سلمان نے ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔

اس پر سلمان کے وکیل روی کدم کا بیان بھی سامنے آیا، جس میں انہوں نے عدالت کے فیصلے کو غلط قرار دیا تھا۔ روی کدم نے کہا کہ کیتن ککڑ کے ذریعے اپ لوڈ کیے گئے ویڈیوز مکمل طور پر من گھڑت ہیں۔ یہ نہ صرف ہتک آمیز ہیں بلکہ فرقہ وارانہ طور پر لوگوں کو سلمان کے خلاف بھڑکاتے ہیں۔کیتن نے ویڈیو میں سلمان کا موازنہ اورنگزیب اور بابر سے کیا تھا۔ سلمان کے وکیل نے کہا کہ کیتن کہتے ہیں کہ ایودھیا کا مندر بنانے میں 500 سال لگے اور سلمان خان یہاں گنیش مندر کو بند کروانا چاہتے ہیں، ان ویڈیوز پر سلمان خان کے خلاف تبصرے کیے گئے ہیں۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ اس ویڈیو کے ذریعے ناظرین کو سلمان کیخلاف اکسایا جا رہا ہے۔ اس کیس کو مکمل طور پر ہندو بنام مسلم بنا دیا گیا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button