قومی خبریں

کیا محب وطن بننا اتنا مشکل ہے؟ سلمان خورشید کے سخت تبصرے سے کانگریس میں ہلچل

آرٹیکل 370 پر حیران کن موقف

نئی دہلی، 2 جون (اردو دنیا نیوز/ایجنسیز)کانگریس پارٹی ایک بار پھر اندرونی اختلافات کے بھنور میں گھرتی جا رہی ہے۔ پارٹی کے سینئر لیڈر اور سابق وزیر خارجہ سلمان خورشید نے ایک بار پھر ایسا بیان دے دیا ہے جس نے نہ صرف پارٹی قیادت کو مشکل میں ڈال دیا ہے بلکہ سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

سلمان خورشید نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر ایک پوسٹ میں ہندوستانی عوام سے سوال کیا،

"جب میں دہشت گردی کے خلاف ہندوستان کے پیغام کو دنیا تک پہنچانے کے مشن پر ہوں تو یہ افسوسناک ہے کہ میرے اپنے ملک کے لوگ سیاسی وفاداریوں کا حساب لگا رہے ہیں۔ کیا محب وطن بننا اتنا مشکل ہے؟”

ان کا یہ تبصرہ اس وقت سامنے آیا ہے جب وہ پاکستان کو عالمی سطح پر بے نقاب کرنے کی مہم میں شامل ہیں۔

آرٹیکل 370 پر حیران کن موقف

حالیہ دنوں میں انڈونیشیا میں تھنک ٹینکس اور ماہرین تعلیم سے خطاب کرتے ہوئے سلمان خورشید نے واضح طور پر آرٹیکل 370 کو ہٹانے کی حمایت کی تھی۔ ان کے مطابق یہ اقدام کشمیر میں خوشحالی لانے کی کوششوں کا حصہ ہے۔

کانگریس پارٹی نے اس بیان پر بظاہر خاموشی اختیار کی ہے، تاہم ذرائع کے مطابق اندرونی سطح پر اس پر خاصی ناراضگی پائی جاتی ہے۔ بی جے پی نے سلمان خورشید کی حمایت کا خیر مقدم کیا اور ان کے بیان کو "سچائی کی فتح” قرار دیا۔

ششی تھرور بھی نشانے پر

اس تنازعے سے قبل ششی تھرور بھی اسی نوعیت کی صورتحال کا سامنا کر چکے ہیں۔ انہوں نے حالیہ دنوں میں سرجیکل اسٹرائیکس کا کریڈٹ مودی حکومت کو دیا تھا، جس پر پارٹی میں سخت اعتراضات اٹھے۔ انہیں پارٹی کے کئی سینئر لیڈران نے سرعام تنقید کا نشانہ بنایا تھا اور ان کی حب الوطنی پر بھی سوالات کھڑے کیے گئے۔

کانگریس کا اندرونی بحران

سلمان خورشید اور ششی تھرور جیسے سینئر رہنماؤں کی جانب سے مودی حکومت کی پالیسیوں کی تعریف کانگریس کے لیے سیاسی حکمت عملی کے اعتبار سے خطرہ بن رہی ہے۔ پارٹی کی مرکزی قیادت ایسی بیان بازی سے پریشان ہے جو بظاہر بی جے پی کے موقف کو تقویت دیتی ہے۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ کانگریس ان بیانات پر سرکاری موقف اختیار کرتی ہے یا خاموشی سے پارٹی کے اندرونی نظم و ضبط کو بہتر بنانے کی کوشش کرتی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button