قد آور لیڈر اعظم خان کا پولیس پر ہراسانی کا الزام
کہا، خواتین اور کارکنان کو دی جارہی ہیں دھمکیاں،بے قصور لوگوں کو پولیس اُٹھا رہی ہے
رام پور،28نومبر :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)سماجوادی پارٹی کے قدآور لیڈر محمد اعظم خان ضلع انتظامیہ کے ذریعہ اپنے حامیوں کو ہراساں کرنے سے پریشان ہیں۔صحافیوں سے غیر رسمی بات چیت میں سینئر لیڈر نے کہا کہ ضلع انتظامیہ اور مقامی پولیس ایس پی کارکنوں کو دھمکیاں دے رہے ہیں اور ان کے گھروں میں گھس کر خواتین کے ساتھ بدسلوکی کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ رام پور اسمبلی سیٹ پر 5 دسمبر کو ہونے والے ضمنی انتخاب میں انہیں ووٹ ڈالنے سے روکنے کے لئے ایسا کیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ پولیس نے میری اہلیہ اور رام پور کی سابق ایم پی تزئین فاطمہ کو بھی دھمکی دی اور ان کے لیے توہین آمیز زبان استعمال کی۔ اعظم خان نے کہا کہ پولیس کی ایک ٹیم نے رام پور میونسپل کارپوریشن کے سامان غائب ہونے کے معاملہ میں ایس پی لیڈر کے شریک ملزم محمد طالب کے گھر پر چھاپہ مارا۔
یہ ڈیوائس اس سال ستمبر میں جوہر یونیورسٹی سے برآمد ہوئی تھی۔ طالب اس معاملے میں مفرور ہے اور پولیس نے اس کے خلاف عدالت میں چارج شیٹ داخل کی ہے۔اعظم نے الزام لگایا کہ پارٹی کے 50 کارکنوں کے دروازے توڑ ے گئے، اور کئی بے قصور لوگوں کو سڑکوں سے اٹھا لیا گیا۔ انہوں نے خواتین کے لیے اشتعال انگیز زبان استعمال کی۔ خواتین کے ساتھ ایسا غیر انسانی اور شرمناک سلوک انتظامیہ کو زیب نہیں دیتا۔ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے میرے ووٹ کا حق چھین لیا گیا ہے، لیکن میں پھر بھی پارٹی کے امیدواروں کے لیے ووٹ مانگنے کا حق رکھتا ہوں۔
میرے پاس پولیس کی بربریت کی ویڈیوز ہیں اور ہم انہیں عدالت میں پیش کریں گے۔ میرے خیال میں مجھے ایس پی سربراہ اکھلیش یادو سے کہنا چاہیے کہ وہ الیکشن کمیشن آف انڈیا سے درخواست کریں کہ وہ بی جے پی کے امیدوار کو فاتح قرار دے کیونکہ یہاں کسی طرح کا کوئی الیکشن نہیں ہورہا ہے ۔ ہمارے ووٹرز کو دھمکیاں دی جا رہی ہیں کہ وہ ووٹ نہ ڈالیں ورنہ ان کے گھروں کو بے دخل کر دیا جائے گا۔واضح رہے کہ رام پور صدر سیٹ پر 5 دسمبر کو پولنگ ہوگی اور تین دن بعد 8 دسمبر کو نتائج کا اعلان کیا جائے گا۔



