بین ریاستی خبریں

سمستی پور: جے ڈی یو کارکن خلیل عالم کا وحشیانہ قتل، جلی مسخ شدہ نعش برآمد

سمستی پور؍پٹنہ،19فروری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) بہار کے سمستی پور میں سفاکانہ قتل معاملہ میں ثبوت چھپانے کے لیے جے ڈی یو کارکن کے نعش کو جلا نے کا دلخراش معاملہ سامنے آیا ہے ۔

یہ واقعہ مسری گھراری تھانہ علاقہ کے ہردیہ نامی گاؤں کا ہے۔ پولیس نے کلیان پور تھانہ علاقہ کے واسودیو پور گاؤں میں بوڑھی گنڈک ندی کے قریب ایک ویران جگہ پر واقع مکان کے اندر سے جے ڈی یو کارکن کی جلی ہوئی باقیات برآمد کی ہیں۔ مہلوک کی شناخت 34 سالہ جے ڈی یو کارکن محمد خلیل عالم رضوی کے طور پر ہوئی ہے۔متوفی کے لواحقین کا کہنا ہے کہ محمد خلیل عالم رضوی 16 فروری کی صبح 11 بجے کے قریب گھر سے نکلے تھے،

اس کے بعد پہلے اس کے موبائل سے پانچ لاکھ روپے کی کال آئی، پھر کچھ دیر بعد اس کے والد کے موبائل پر کال آئی جس میں 3 لاکھ 75 ہزار روپے کا مطالبہ کیا گیا۔ جب گھر والوں نے فون کرنے والے سے پوچھا کہ رقم کہاں دینی ہے ،تو اسے کہا گیا کہ اسے اس کے اکاؤنٹ میں بھیج دے۔

ناخوشگوار ہونے کے خدشے کے پیش نظر لواحقین نے مسری گھراری تھانے میں شکایت کی ،جس کے بعد پولیس نے تفتیش شروع کردی۔پولیس موبائل لوکیشن کی بنیاد پر اپنی تفتیش آگے بڑھا رہی تھی،

اسی کے تحت جب وہ کلیان پور تھانہ علاقہ کے واسیو پور کے نزدیک پرانی گنڈک ندی کے ڈھلان پر پولیس پہنچی تو ماجرا دیکھ کر دنگ رہ گئی۔پولیس اس تحقیق پر پہنچی کہ جے ڈی یو کارکن محمد خلیل عالم رضوی کا قتل کرکے نعش کو ایک سنسان علاقے میں پولٹری فارم کے پیچھے ایک کمرے میں آدھی جلی حالت میں دفن کر دیا گیا۔

پولس ذرائع کے مطابق پولیس  واقعہ کی جگہ کے ارد گرد چھان بین کرنے گئی تھی، لیکن پھر انہیں کچھ نہیں ملا۔ لیکن رات کو دوبارہ جب پولس نے اس جگہ پہنچ کر تفتیش شروع کی تو یہ سب دیکھ کر حیران رہ گئے۔ مجسٹریٹ کی موجودگی میں لاش کو نکال کر پوسٹ مارٹم کے لیے سمستی پور صدر اسپتال بھیج دیا گیا۔

فی الحال پولس اس معاملہ میں کچھ بھی بتانے سے گریز کر رہی ہے، تاہم مجرموں کی گرفتاری کے لیے مسلسل چھاپے ماری بھی جاری ہے ۔

متعلقہ خبریں

Back to top button