سرورققومی خبریں

سپریم کورٹ نے سنبھل جامع مسجد تنازعہ میں حکم امتناعی میں توسیع کر دی

سپریم کورٹ نے موجودہ صورتحال برقرار رکھنے کی مدت میں دو ہفتے کی توسیع کر دی

نئی دہلی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)سپریم کورٹ نے پیر کے روز اتر پردیش کے سنبھل ضلع میں جاری مسجد تنازعہ پر اسٹیٹس کو (موجودہ حالت برقرار رکھنے) کے حکم کو مزید دو ہفتے کے لیے بڑھا دیا۔ جسٹس پی ایس نرسمہا اور جسٹس آلوک رادھے پر مشتمل بینچ نے یہ فیصلہ سنایا۔

یہ معاملہ کمیٹی آف مینجمنٹ جامع مسجد سنبھل کی جانب سے دائر اپیلوں پر سماعت کے دوران سامنے آیا، جنہیں کمیٹی کے سکریٹری اور نائب صدر نے پیش کیا تھا۔ عدالت عظمیٰ نے رجسٹری کو ہدایت دی کہ وہ اپیلوں کی جانچ کرے اور رپورٹ پیش کرے۔

ہندو فریق کی نمائندگی کرنے والے وکیل وشنو شنکر جین نے اسٹیٹس میں توسیع کی مخالفت کی، جبکہ مسجد کمیٹی کی جانب سے سینئر وکیل حذیفہ احمدی نے رپورٹ جمع ہونے تک توسیع دینے کی درخواست کی۔

یہ تنازعہ اس وقت ابھرا جب سنبھل کی سول عدالت نے شاہی جامع مسجد اور ہری ہر مندر کے تعلق سے عدالتی سروے کا حکم دیا۔ سول جج کے 19 نومبر کے حکم کے تحت اسی دن پہلا سروے کرایا گیا، جبکہ 24 نومبر کو دوسرا سروے ہوا۔ مسجد کمیٹی کا دعویٰ ہے کہ دوسرا سروے غیر قانونی تھا کیونکہ عدالت نے اس کی منظوری نہیں دی تھی۔

الہ آباد ہائی کورٹ نے سول عدالت کے فیصلے کو درست مانتے ہوئے مسجد کمیٹی کی عرضی خارج کر دی تھی۔ اس کے خلاف مسجد کمیٹی نے سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا۔سنبھل کی شاہی جامع مسجد، جو آثار قدیمہ ہندستان کے تحت محفوظ مغلیہ دور کی مسجد ہے ۔

متعلقہ خبریں

Back to top button